حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 47

حمامة البشرى ۴۷ اردو ترجمه ويرضى له أن يتبع احاد الآثار اور اپنے لئے پسند کرے کہ اُن آثار کا متبع ہو کر جو ويترك بينات القرآن، ويؤثر احاد ہیں قرآن کے بینات کو ترک کرے اور شک الشك على اليقين، ويختار کو یقین پر ترجیح دے اور عارف ہونے کے بعد الجهل بعد ما كان من العارفين۔جہالت کو اختیار کرے۔بقية الحاشية فأولتُ أن الرفعة لنا فی الدنیا بقیہ حاشیہ تو میں نے تعبیر کی کہ دنیا میں ہمارے لئے رفعت ہے والعافية في الآخرة، وأن ديننا قد طاب۔ومنها ما اور آخرت میں عافیت ہے اور ہمارا دین طیب ہو گیا ہے۔اور جاء في حديث أبي موسى قال قال رسول الله الا الله منجملہ اُن کے ابوموسیٰ اشعری کی حدیث ہے اُس نے کہا کہ فرمایا ل رأيت في رؤیای آنی هززت سيفا فانقطع رسول اللہ صلعم نے کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں نے تلوار نکالی صدره، فإذا هو ما أُصيب من المؤمنين يوم أحد، ثم هززته أخرى فعاد أحسن ما كان، فإذا ہے اور اس کی دھار ٹوٹ گئی ہے تو اُس کی تعبیر وہ مومن ہیں جو اُحد هو ما جاء الله به من الفتح واجتماع المؤمنين۔کے دن شہید ہوئے۔پھر میں نے دوبارہ نکالی تو پہلے کی بہ نسبت فانظر كيف رأى رسول الله صلى الله علیہ وسلم بہت عمدہ ہو گئی تو اس کی تعبیر فتح اور مومنوں کا اجتماع تھا۔پس دیکھ الكيفيات الروحانية في الصور الجسمانية ولا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معانی روحانیہ کو کیسا جسمانی صور يخفى عليك أن رؤيا الأنبياء وحتی، فثبت من میں دیکھا ہے اور تجھ پر مخفی نہیں ہے کہ انبیاء کی خواہیں وحی ہوتی ههنا أن وحى الأنبياء قد يكون من نوع المجاز والاستعارة ، وقد أوّلَ رسولُ الله الله مثل ہیں۔پس اس سے ثابت ہوا کہ انبیا کی وحی کبھی مجاز اور استعارہ کی قسم سے ہوتی ہے اور اس وحی کی تاویل کی مانند آنحضرت کی اور ذلك الوحى، وتأويلاته كثيرة كما في رؤية بہت سی تاویلیں ہیں کہ سونے کے کنگنوں اور قمیص اور گائے وغیرہ سوار الذهب والقميص والبقر وغيرها من الرؤيا التي هي مشهورة في القوم، فلا حاجة کو خواب میں دیکھا اور یہ خوا ہیں قوم میں مشہور ہیں تمہارے آگے إلى أن نقص عليك۔وقد رأى رسول الله بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلى الله عليه وسلم في رؤيا أخرى الدجال نے ایک اور خواب میں دجال کو دیکھا کہ دو شخصوں کے کاندھوں پر المسيح واضعا يديه على منكبى رجلين يطوف ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کرتا ہے۔پس اگر (اس) بالبيت۔فلوحملنا تلك الوحى على الظاهر لوجب وحی کو ہم ظاہر پر محمول کریں تو لازم آوے گا کہ دجال مومن مسلمان ہو کیونکہ بیت اللہ کا طواف اہل اسلام کے شعار سے أن يكون الدجال مسلمًا مؤمنا لأن الطواف من شعائر المسلمين۔ثم إن هذه الأحاديث تدلّ على أن الدجال كان موجودا في زمان النبي ہے۔پھر یہ احادیث صاف بتاتی ہیں کہ دجال نبی صلی اللہ علیہ صلى الله عليه وسلم وقد رآه تمیم الداری، وسلم کے زمانہ میں موجود تھا اور تمیم داری نے اُس کو دیکھا بھی تھا