حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 258

حمامة البشرى ۲۵۸ اردو ترجمه وههنا نكتة أخرى۔۔وهى أن الله اور یہاں ایک اور نکتہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ جب إذا نزل إلى الأرض مع ملائكته فلا اپنے فرشتوں کے ساتھ زمین کی طرف نزول فرماتا ہے بد من أن ينزل الملائكة كلهم، تو ضروری ہے کہ تمام کے تمام فرشتے بھی اُتریں فإن الملائكة جند الله فلا يجوز کیونکہ فرشتے اللہ کی فوج ہیں۔اس لئے جائز نہیں أن يتخلف أحد منهم عند نزول کہ ان میں سے کوئی رب العرش کے زمین پر نزول ربّ العرش إلى الأرض، فإذا تقرر فرمانے کے وقت پیچھے رہ جائے۔اور جب یہ هذا فيلزم منه أن تبقى كل سماء ثابت ہو گیا تو اس سے یہ بھی لازم آیا کہ عرش سے من العرش إلى السماء الدنيا خالية لے کر سماء الدنیا تک ہر آسمان اللہ تعالیٰ کے زمین عند نزول الله تعالى على الأرض پر نزول فرما ہوتے وقت خالی ہوجائے۔نہ اُس ليس فيها رب رحیم رب العرش میں رب رحیم اور رب العرش ہوا اور نہ فرشتوں میں ولا ملك من الملائكة، واللازم سے کوئی فرشتہ اور جیسا کہ غور وفکر کرنے والوں پر یہ باطل فالملزوم مثله كما لا يخفى مخفی نہیں کہ (جب ) لازم باطل ہو تو ملزوم بھی ویسے ہی (باطل ) ہوگا۔ثم إذا فرضنا أن في الأرض مثلا پھر اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ مثلاً زمین میں مائة ألف من الأنبياء ، بعضهم فی ایک لاکھ انبیاء ہیں۔جن میں سے بعض مشرق المشرق وبعضهم في المغرب میں ہیں اور بعض مغرب میں ہیں بعض جنوب وبعضهم في نواحی الجنوب کے نواح میں اور بعض شمال کے انتہائی وبعضهم في أقصى بلاد الشمال دور مقامات میں ہیں۔اور اللہ تعالیٰ جبرائیل وأمر الله تعالى لجبرائیل ان کو یہ حکم دے کہ وہ ان سب کی طرف ایک يُوحى إليهم كلهم في آن واحد لا ہی وقت میں وحی کرے۔اور اُن میں سے يتاخر منه أحد ولا يتقدم؛ کوئی ایک بھی وحی پانے میں آگے پیچھے نہ ہو على المتفكرين۔