حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 216

حمامة البشرى ۲۱۶ اردو ترجمه من المهتدين۔وما نظروا إلى القرآن و طریق اور اُنہوں نے قرآن اور اُس کے اس لفظ کو استعمال استعماله في هذا اللفظ ، و ورودہ کرنے کے طریق اور قرآن میں اس لفظ کے تواتر کے فيه بمعنى الإمانة بالتواتر والتتابع، ساتھ موت دینے کے معنوں میں وارد ہونے پر غور نہیں فضلوا وأضلوا وما كانوا کیا۔اس طرح وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔ثم إذا فرضنا أن التوفّى بمعنی پھر اگر ہم فرض کریں کہ توفی کا لفظ سُلانے الإنامة، فما نرى أن ينفعهم هذا كے معنوں میں ہے تو ہم ان معنوں کو اُن کے لئے المعنى مثقال ذرة، فإن النوم مراد ذرہ بھر مفید نہیں دیکھتے کیونکہ نیند، روح اور جسم من قبض الروح وتعطل حواس کے باہمی تعلق کے باقی رہنے کے باوجود حواسِ الجسم مع بقاء تعلَّق بين الروح جسم کے معطل ہونے اور قبض روح سے عبارت والجسد، فمن أين يثبت من هذا أن ہے۔پھر اس سے یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ اللہ نے الله قبض جسم المسيح؟ ألا تنظر مسیح کے جسم کو قبض کر لیا؟ کیا تو اللہ کی قدیم سنت إلى سُنّة الله القديمة فإنه کی طرف نگاہ نہیں ڈالتا کہ وہ نیند کی حالت میں يقبض الأرواح في حالة النوم ويترك روحوں كو قبض کر لیتا ہے اور جسموں کو زمین پر رہنے الأجسام على الأرض۔فمن أين دیتا ہے۔پھر تجھے کہاں سے یہ معلوم ہوا کہ علمت أن لفظ مُتَوَفِّيكَ مُشْعِرٌ مُتَوَفِّيكَ کا لفظ جسم کے اُٹھائے جانے کو ظاہر برفع الجسد؟ والخلق ينامون كلهم کرتا ہے؟ حالانکہ سب مخلوق سوتی ہے لیکن اللہ ان ولكن لا يقبض الله جسم احد میں سے کسی کے جسم کو قبض نہیں کرتا۔پس تو تحلم منهم۔فاترك التحكم والمكابرة، اور ہٹ دھرمی چھوڑ دے اور ایمان اور دیانت سے وانظر إيمانا وديانة لينفخ الله في غور و فکر کرتا کہ اللہ تیرے دل میں (اپنی) روح روعك ويجعلك من العارفين پھونکے اور تجھے عارفوں میں سے بنادے۔