حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 123 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 123

حمامة البشرى ۱۲۳ اردو ترجمه أروح وأغدو في هذا الفكر، اور میں شب و روز اسی فکر میں رہتا تھا کہ مسیح مجھ پر فنزل على المسيح و نادانی من نازل ہوا اور اس نے روشنی میں سے مجھے پکارا میں الضوء ، وسمعت صوته و عرفته، نے اُس کی آواز سنی اور میں نے اسے پہچان لیا۔فقال لم تؤذيني يا بولص؟ أتطيق پھر اُس نے کہا اے پولوس! تو مجھے کیوں تکلیف أن تضرب يدك على رمح دیتا ہے؟ کیا تو آہنی نیزے پر اپنا ہاتھ مار سکتا ہے؟ الحديد فزجرني وخوفنی حتی پھر اُس نے مجھے ڈانٹا اور ڈرایا یہاں تک کہ خفت وارتعدت، فقلت: یا ربّی میں ڈر گیا اور لرز گیا اور میں نے کہا، اے میرے إني تبت مما فعلت فأمُرُ ما رب! میں اپنے کئے پر تائب ہوتا ہوں مجھے حکم أفعل بعد ذلك۔فأمرني وقال : دیکھیئے کہ میں اس کے بعد کیا کروں؟ اس پر آپ نے سر إلى مدينة دمشق، وابحث مجھے یہ حکم دیتے ہوئے کہا کہ دمشق شہر کی طرف جا فيها عن رجل اسمه أنانيا، واقصص اور انا نیا نام کے آدمی کی وہاں تلاش کر اور اُس کے عليه هذه القصة، فهو يعرفك سامنے یہ سارا ماجرا بیان کر۔پس وہ تجھے بتائے گا جو ما يكون عملك فالحمد للہ تجھے کرتا ہے۔پس الحمد للہ کہ میں نے آپ کو پالیا اور أني وجدتك ورأيتك على ميں نے آپ میں وہی صفات مشاہدہ کیں جو میرے صفات عرفنى بها ربّى المسيح رب مسیح نے مجھے بتائی تھیں۔پھر ان پر فریب تمہیدی ثم قال بعد تمهيد هذه المكائد کلمات کے بعد یہ کہا کہ اے میرے آقا! میں يا سيدي إني برئ من دین یہودیوں کے دین سے بیزار ہوں۔آپ مجھے عیسائیت اليهود، فأدخلني في الملة کی ملتِ مقدسہ میں داخل کر لیجیے میں آپ کے المقدسة النصرانية، فإنّي جنتك پاس ایک مومن کی حیثیت سے اور مسیح کی طرف مؤمنا ومبشرا من المسیح سے خوشخبری دینے والا بن کر آیا ہوں۔چنانچہ يد أنانيا، (پولوس) نے انانیا کے ہاتھ پر عیسائیت قبول کرلی فتنصرء ى