حکایاتِ شیریں — Page 7
تعلیم کا مادہ نہیں ہوتا۔سعدی نے بھی ایک قصہ نظم میں لکھی ہے کہ ایک گدھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر شب و روز محنت کرتا۔ایک حکیم نے اسے کہا اے بوقوف تو یہ کیا کرتا ہے اور کیوں اپنا وقت اور مغتر بے فائدہ گنواتا ہے ؟ یعنی گدھا تو انسان نہ ہو گا تو تبھی کہیں گدھا نہ بن جادے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه ۲۶۶) شیخ سعدی کے دوشاگرد عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چائیے جب پہلے کم از که جانش دن رو رو کر دنا کی ہو۔شیخ سعدی کے دو شاگرد تھے۔ایک ان میں سے حقائق بیان کیا کرتا تھا۔دوسرا جلا بھنا کرنا تھا آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جاتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے دلہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی۔غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا۔جب تک رحم ، دعا ، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو ( ملفوظات جاه هفتم صفحه ۷۹) دنیا کی خاطر عداوت کیا کرتی دنیا اور اس کا اسباب کیا بستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تم کسی سے ا عداوت رکھو۔شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے کیا عمدہ واقعہ بیان کیا ہے کہ دو شخص آپس میں سخت عداوت رکھتے تھے۔ایسا کہ وہ اس بات کو بھی ناگوار رکھتے تھے کہ ہر دو ایک آسمان کے نیچے ہیں۔ان میں سے ایک قضائے کا ر فوت ہو گیا۔اس سے دوسرے کو بہت خوشی ہوئی۔ایک روز اس کی قبر پر گیا اور اس کو اکھاڑ ڈالا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا نازک جسم خاک آلود ہے اور کیڑے اس کو کھا رہے ہیں۔ایسی حالت میں دیکھ کر دنیا کے انجامہ کا نظارہ اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا اور سخت رقت طاری ہوئی اور انبار دیا کہ اس کی قبر کی مٹی کو تر کر دیا اور پھر اس کی قبر کو درست کرا کر اس پر لکھوایا مکن شادمانی برگ کسے کہ دہرت پس از وٹے نماند کیسے ( ملفوظات جلد نہم ص۲۱) اس پر