حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 6

بانی طلب ب کیا میں جب پانی لایا تو وہ سوچکی تھی۔میں نے اس کو نہ اٹھایا کہ کہیں اس کو تکلیف نہ ہو۔اور وہ پانی لیے تمام رات کھڑا رہا۔صبح ابھی تو اسے دے دیا۔اے اللہ ! اگر تجھے میری یہ نیکی پسند ہے تو مشکل کو دور کر۔پھر اس قدر بہتر اونچا ہو گیا کہ وہ سب نکل گئے اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو نیکی کا بدلہ دے دیا۔( ملفوظات جلد ششم صفحه ۲۶-۲۷) خدا کے مقربوں کا شیوہ مجھے ایک حکایت یاد آئی جو سعدی نے بوستان میں لکھی ہے کہ ایک بزرگ کو تکتے نے کاٹا گھر آیا تو گھروالوں نے دیکھا کہ اسے کتنے نے کاٹ کھایا ہے۔ایک مبھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی۔وہ پولی آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا۔اس نے جواب دیا۔بیٹی انسان سے کتنین نہیں ہوتا اس طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرنے نہیں تو وہی کین کی مثال صادق آئے گی خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں۔بہت بری طرح سنتا یا گیا مگر ان کو اعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ کا ہی خطاب ہوا ( ملفوظات جلد اوّل صفحه ۱۰۳) دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے اگر دشمن مر بھی جاوے تو کیا اور زندہ رہے تو کیا نفع و نقصان کا پہنچانا خدا تعالیٰ کے قبضہ اور اختیار میں ہے۔کوئی شخص کسی کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔سعدی نے گلستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ نوشیرواں بادشاہ کے پاس کوئی شخص خوشجری لے کر گیا کہ تیرا فلاں وقسمن مارا گیا ہے اور اس کا ملک اور قلعہ ہمارے قبضہ میں آگیا ہے۔نوشیرواں نے اس کا کیا اچھا جواب دیا۔مرا بمرگ عدو جائے شادمانی نیست که زندگانی ما نیز جاودانی نیست ر ملفوظات جلد اوّل صفحه ۳۵۹) صرف انسان یکی اختیار کر سکتا ہے انسان کی بچپن کی حالت اس بات پر دلالت کرتی بے کرے گا۔ٹر بیل وغیرہ جانور رت ہی کی طرح انسان بھی پیدا ہوتا ہے۔صرف انسان کی فطرت میں ایک نیک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کر نیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسان میں ہی ہوتی ہے کیونکہ بہائم میں