حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 7

شب تعلیم کا کا مادہ مادہ نہیں ہوتا۔ سعدی چینے نے بھی ایک قصہ نظم میں لکھا ہے کہ ایک گدھے کو ایک بیوقوف تعلیم دیتا تھا اور اس پر روز محنت کرتا ۔ ایک حکیم نے اسے کہا اے بیوقوف تو یہ کیا کرتا ہے و اور کیوں اپنا وقت اور مغز بے فائدہ گنواتا ہے ؟ یعنی گدھا تو انسان نہ ہو گا تو بھی کہیں گدھا نہ بن جاوے۔ ) ملفوظات جلد پنجم صفحه ۲۶۶) شیخ سعدی کے دوشاگرد عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہئیے جب پہلے کم از کم چاہتیں دن رو رو کر دنا کی ہو۔ شیخ سعدی کے دو شاگرد تھے ۔ ایک ان میں سے حقائق بیان کیا کرتا تھا۔ دوسرا جلا بھنا کرتا تھا آخر پہلے نے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جاتا ہے اور حسد کرتا ہے ۔ شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ ۔ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی۔ غرضیکہ یہ سلسلہ چل نہیں سکتا ۔ جب تک رحم ، دعا ، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو ( ملفوظات جلد هفتم صفحه ۷۹ ) دنیا کی خاطر عداوت کیا کرتی رتم کسی سے دنیا اور اس کا اسباب کیا ہستی رکھتا ہے کہ اس کی خاطر تمک اور عداوت رکھو ۔ شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے کیا عمدہ واقعہ بیان کیا ہے کہ دو شخص آپس میں سخت عداوت رکھتے تھے ۔ ایسا کہ وہ اس بات کو بھی ناگوار رکھتے تھے کہ ہر دو ایک آسمان کے نیچے ہیں ۔ ان میں سے ایک قضائے کار فوت ہو گیا ۔ اس سے دوسرے کو بہت خوشی ہوئی۔ ایک روز اس کی قبر پر گیا اور اس کو اکھاڑہ ڈالا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کا نازک جسم خاک آلود ہے اور کیڑے اس کو کھا رہے ہیں ۔ ایسی حالت میں دیکھ کر دنیا کے انجام کا نظارہ اس کی آنکھوں کے آگے پھر گیا اور اس پر سخت رقت طاری ہوئی اور انتشار ویا کہ اس کی قبر کی مٹی کو تر کر دیا اور پھر اس کی قبر کو درست کرا کر اس پر لکھوایا مکن شادمانی بمرگ کسے کہ دہرت پس از دئے نماند بسے ( ملفوظات جلد نہم ص ۲۱۸)