حکایاتِ شیریں — Page 22
۴۰ دی۔ وعظ سے متاثر ہو کر ایک عورت نے اپنی پازیب اتار کر اس کو چندہ میں دے جس پر مولوی صاحب نے کہا اسے نیک عورت کیا تو چاہتی ہے کہ تیرا دوسرا پاؤں روزخ میں جلے ؟ یہ سن کر اس نے فی الفور دوسری پازیب بھی اتار کر اسے دے دی ۔ مولوی صاحب کی بیوی بھی اس وعظ میں موجود تھی اس کا اس پر بھی بڑا اثر ہوا اور جب مولوی صاحب گھر میں آئے تو دیکھا کہ ان کی عورت روتی ہے اور اس نے اپنا سارا زیور مولوی صاحب کو دے دیا کہ اسے مسجد میں لگا دو مولوی صاحب نے کہا کہ تو کیوں ایسا روتی ہے یہ تو صرف پندہ کی تجویز تھی اور کچھ نہ تھا۔ یہ باتیں سنانے کی ہوتی ہیں کرنے کی نہیں ہوتیں اور کہا کہ اگر ایسا کام ہم نہ کریں تو گزارہ نہیں ہوتا ۔ انہیں کے متعلق یہ ضرب المثل و اعطال کیں جلوہ بر محراب و منبر سے می کنند چوں بخلوت سے روند آن کار دیگرے کے کنند د یہ واقعہ ملفوظات جلد ششم مر ۲۶۵ - ۲۶۴ اور جلد پنجم ص ۳۱ پر تفاصیل کے فرق سے درج ہے ۔ یہاں پر اس واقعے کی تفاصیل کو یکجا کر دیا گیا ہے ، ہے :