حکایاتِ شیریں — Page 15
۲۷ ۲۶ سے کیا کام وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا ۔ ایک عورت کا قیصہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لیے ہوئے پھر رہا ہے ۔ اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے ۔ اس نے کہا میں اپنے یار کو باد کرتا ہوں ۔ عورت نے کہا کہ یار کو یاد کرنا اور پھر گن گن کر ؟ تم نے سمجھا ہے بالکل درست ہے مگر میں نے قوت مجاہدہ سے اپنے اخلاق کی اصلاح کرلی ہے اس پر قلاطون نے ملاقات کی اجازت دے دی بین خلق ایسی شے ہے جس میں تبدیلی ہو سکتی ہے ۔ ملفوظات جلد هفتم ص ۱۹ در حقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرتا ہو تو پھر گن ایک پرندے کی مہمان نوازی گنے کو کیا یاد کرتا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہی کثرت سے نہ ہو۔ وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا گیا ہے حاصل نہیں ہوتا ۔ ( ملفوظات جلد ہفتم صفحہ ۱۹ ) اور اس خلق میں تبدیلی ممکن ہے ایک پرندے کی مہمان نوازی پر ایک حکایت ہے کہ ایک درخت کے نیچے ایک مسافر کو رات آگئی جنگل کا ویرانہ اور سردی کا موسم - درخت کے او پر ایک پرندے کا آشیانہ تھا ۔ نرومادہ آپس میں گفتگو کرتے لگے کہ یہ کہا غریب الوطن آج ہمارا مہمان ہے اور سردی زرہ ہے اس کے واسطے ہم کیا کریں ؟ سوچ کر ان میں یہ صلاح قرار پائی کہ ہم اپنا آشیانہ توڑ کر نیچے ذکر کرتے ہیں کہ افلاطون کو علم فراست میں بہت دخل تھا۔ پھینک دیں اور وہ اس کو جلا کر آگ تا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے کہ ر اس کے دروازہ پر ایک دربان مقر ر کیا ہوا تھا جسے کم تھا کہ جب کہ یہ بھوکا ہے اس کے واسطے کیا دعوت تیار کی جائے اور تو کوئی چیز کوئی شخص ملاقات کو آدے تو اول اس کا حلیہ بیان کرو اس لیہ کے ذریعہ موجود نہ تھی ۔ ان دونوں نے اپنے آپکو نیچے اس آگ میں گرا دیا۔ تاکہ اس کے اخلاق کا حال معلوم کر کے پھر اگر قابل ملاقات سمجھتا تو ملاقات کرتا ورنہ رد کر دیتا ۔ ایک دفعہ ایک شخص اس کی ملاقات کو آیا دربان نے اطلاع دی ۔ اس کے نقوش کا حال سن کر افلاطون نے ملاقات سے انکار کر دیا ۔ اس پر اس شخص نے کہلا بھیجا کہ افلاطون سے کہہ دو کہ جو کچھ وہ ان کے گوشت کا کباب ان کے مہمان کے واسطے رات کا کھانا ہو جائے اس طرح انہوں نے مہمان نوازی کی ایک نظیر قائم کی ۔ ( ملفوظات جلد هشتم صفحه ۲۸۲)