حکایاتِ شیریں — Page 5
انتساب عزیزہ نصرت خلیل کے نام جس نے وار اپریل ۱۹۸۶ء کو وفات پائی خاکسار اس کی وفات کے وقت پاس بیٹھا یہ کتاب مرتب کر رہا تھا۔نیکی کا بدلہ ہمیں اس خدا تعالیٰ کی ہی پرستش کرنی چاہیے جو کہ ذرہ سے کام کا بھی اجر دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ایک قصہ بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تمین آدمی پہاڑ میں پھنس گئے تھے۔وہ اس طرح کہ انہوں نے پہاڑ کی غار میں ٹھکانہ لیا تھا۔جبکہ ایک پتھر سامنے سے آگرا اور راستہ بند کر نیا۔تب ان تینوں نے کہا کہ اب تو نیک کام ہی بچائیں گے چنانچہ ایک نے کہا کہ ایک دفعہ میں نے مزدور لگائے تھے۔مزدوری کے وقت ان میں سے ایک کہیں چلا گیا۔میں نے بہت ڈھونڈا آخر نہ ملا تو میں نے اس کی مزدوری سے ایک بکری خریدی اور اس طرح چند سال تک ایک بڑا گلہ ہو گیا۔پھر وہ آیا اس نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ آپ کی مزدوری کی تھی۔اگر آپ دیں تو عین مہربانی ہوگی میں نے اس کا تمام مال اس کے سپرد کر دیا۔اے اللہ ! اگر تجھے میرا یہ نیک عمل پسند ہے تو میری مشکل آسان کر۔اتنے میں تھوڑا پتھر اونچا ہو گیا پھر دوسرے نے اپنا قصہ بیان کیا اور پھر بولا کہ اے اللہ ! اگر میری یہ نیکی تجھے پسند ہے تو میری مشکل آسان کرے۔پتھر ذرا اور اونچا ہو گیا۔پھر تیسرے نے کہا کہ میری ماں بوڑھی سختی ایک رات کو اس نے