عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 38

عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 20

عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ پایا اور میں یہ حلفاً کہتا ہوں کہ آپ مجھ سے بڑی محبت و الفت سے ملے اور میرے دل میں یہ بات ڈالی گئی کہ آپ مجھے اور میرے عقیدے کو جانتے ہیں اور میں اپنے مسلک اور مشرب میں شیعوں سے جو اختلاف رکھتا ہوں وہ اسے بھی جانتے ہیں لیکن آپ نے کسی بھی قسم کی ناپسندیدگی یا ناگواری کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی مجھ سے پہلو تہی کی بلکہ وہ مجھے ملے اور مخلص محبین کی طرح مجھ سے محبت کی اور انہوں نے سچے صاف دل رکھنے والے لوگوں کی طرح محبت کا اظہار فرمایا اور آپ کے ساتھ حسین بلکہ حسن اور حسین دونوں اور سید الرسل خاتم النبیین بھی تھے اور ان کے ساتھ ایک نہایت خوبرو، صالحہ، جلیلۃ القدر، بابرکت، پاکباز ، لائق تعظیم، باوقار ، ظاہر و باہر نورِ مجسم جو ان خاتون بھی تھیں جنہیں میں نے غم سے بھرا ہوا پایا لیکن وہ اسے چھپائے ہوئے تھیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ آپ حضرت فاطمتہ الزہرا نہیں۔آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میں لیٹا ہو ا تھا۔پس آپ بیٹھ گئیں اور آپ نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا اور شفقت کا اظہار فرمایا اور میں نے دیکھا کہ وہ میرے کسی غم کی وجہ سے غم زدہ اور رنجیدہ ہیں۔اور فرمایا کہ بچوں کی تکلیف کے وقت ماؤں کی طرح شفقت و محبت اور بے چینی کا اظہار فرما رہی ہیں۔20