عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 30 of 38

عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 30

عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ کی جاتی۔غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسین یا کسی اور بزرگ کی جو ائمہ مطہر مین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا ان کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جل شانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے۔1866 پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ سب کچھ سننے کے بعد ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو کہیں کہ آل محمد سے محبت نہیں تھی۔جس محبت کا ادراک آپ کو تھا وہ کسی اور کو نہیں ہوسکتا اور یہی آپ نے فرمایا بھی ہے۔لیکن جہاں شیعہ غلو کی حد تک گئے ہیں وہاں ان کو حقیقت بھی آپ نے بتائی ہے اور جہاں سُستی غلط ہوئے وہاں انہیں بھی بتایا کہ اصلاح کرو۔اور یہی حکم اور عدل کا کام ہے اور اسلام کی حقیقی تعلیم کے پھیلانے اور رائج کرنے کے اسی کام کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھیجا تھا لیکن اس کے باوجود یہ جو دونوں بڑے فرقے ہیں یہ احمدیوں کو ہی بُرا کہتے ہیں، ہمیں ہی ظلموں کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود ہم نے صبر و استقامت سے اس کام کو جاری رکھنا ہے جو ہمارے سپر د ہے جس کے لیے ہم نے حضرت مسیح 30