عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 38

عَلیٰ دِیْنِ وَّاحِدٍ : حکم اور عدل — Page 10

عَلَى دِينِ وَاحِدٍ: حکم اور عدل خطبه جمعه بیان فرموده ۲۸ اگست ۲۰۲۰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اُس زمانے میں بھی مسیلمہ نے یعنی ابتدا میں حضرت ابو بکر کے زمانے میں مسیلمہ نے اباحت کے رنگ میں لوگوں کو جمع کر رکھا تھا۔غلط قسم کی تشریحیں کر کے ، غلط باتوں کو جائز قرار دے کر صرف لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا۔فرمایا کہ ایسے وقت میں حضرت ابو بکر خلیفہ ہوئے تو انسان خیال کر سکتا ہے کہ کس قدر مشکلات پید ا ہوئی ہوں گی۔اگر وہ قوی دل نہ ہو تا یعنی حضرت ابو بکر اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان کا رنگ اس کے ایمان میں نہ ہوتا تو بہت ہی مشکل پڑتی اور گھبرا جاتا لیکن صدیق نبی کا ہم سایہ تھا۔ہم ، سایہ یعنی اس کا سایہ پڑ رہا تھا۔آپ کے اخلاق کا اثر اس پر پڑا ہوا تھا اور دل نوریقین سے بھرا ہوا تھا۔اس لیے وہ شجاعت اور استقلال دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ان کی زندگی اسلام کی زندگی تھی۔یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر کسی لمبی بحث کی حاجت ہی نہیں۔اس زمانہ کے حالات پڑھ لو اور پھر جو اسلام کی خدمت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کی ہے اس کا اندازہ کر لو۔میں سچ کہتا ہوں کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے لیے آدم ثانی ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے 10