حدیقۃ الصالحین — Page 839
839 نوٹ:۔مزید تشریح کے لئے دیکھیں فتوحات مکیہ باب نمبر 73 جلد 2 ص 100، الیواقیت والجواہر جلد 1 ص 28، نبر اس شرح عقاید نسفی ص 445، بحر المحیط جلد 2 ص 287 ۱۴)۔خاتم النبیین کے معصے ہیں کہ موصوف بوصف نبوت بالذات تو ہمارے رسول اللہ صلی این کم ہی ہیں اور باقی انبیاء میں اگر کمال نبوت آیا ہے تو جناب خاتمی ماب صلی للہ کم ہی کی طرف سے آیا ہے مگر بایں لحاظ کہ ہر نبی کی روح اسکی امتیوں کی ارواح کے لیے معدن اور اصل ہوتی ہے ، چنانچہ تقریری متعلق آیت النَّبِيُّ أَولَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ (( حزاب 7) میں ادنی تامل کیجئے ، تو اسپر شاہد ہے ، یوں سمجھ میں آتا ہے کہ اور انبیاء رسول اللہ صلی الی نام سے فیض لیکر امتیوں کو پہنچاتے ہیں غرض بیچ میں واسطہ ء فیض ہیں مستقل بالذات نہیں مگر یہ بات بعینہ وہی ہے جو آئینہ کی نور افشانی میں ہوتی ہے۔غرض جیسے آئینہ آفتاب اور اس دھوپ میں واسطہ ہوتا ہے جو اس کے وسیلہ سے ان مواضع میں پیدا ہوتی ہے جو خود مقابل آفتاب نہیں ہوتی پر آئینہ مقابل آفتاب کے مقابل ہوتی ہیں، ایسے ہی انبیا باقی بھی مثل آئینہ کے واسطہ فیض ہیں غرض اور انبیاء میں جو کچھ ہے وہ شکل اور عکس محمدی ہے کوئی ذاتی کمال نہیں“۔(تحذیر الناس صفحہ 29) ۱۵)۔کوئی مرتبہ شرف و کمال کا اور کوئی مقام عزت اور قرب کا بجز بچگی اور کامل متابعت اپنے نبی صلی علیم کے ہم ہر گز حاصل کر ہی نہیں سکتے۔ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔(ازاله اوبام، روحانی خزائن جلد 3 صفحه (170)