حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 833 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 833

833 ۱۴۴)۔حدیث نمبر 987 کا مدلول غزوہ تبوک میں حضرت علی کا مدینہ میں نائب یا مقامی امیر بنایا جانا اور حضرت ہارون سے تشبیہ دیا جانا ہے۔جبکہ حضرت موسیٰ نے طور کی جانب سفر کیا اور بعدی کے معنی اس جگہ غیری (میرے سوا کوئی نبی نہ ہونے) کے ہیں نہ بعدیت زمانی جیسا کہ آیت فَمَنْ يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ اللهِ میں کہتے ہیں کہ بعد اللہ کے معنے اللہ تعالیٰ کے سوا کے ہیں۔( قرۃ العینين في تفضيل الشيخين ص 206 مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) 1 ۱۵)۔مسجد نبوی کے آخری مسجد ہونے کے یہ معنے نہیں کہ آئندہ کوئی مسجد ہی نہیں بنے گی بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ یہ مسجد آئندہ دوسری بننے والی مساجد کے لئے مکمل اور دائمی نمونہ کے طور پر ہو گی اور اسی کی اتباع میں دوسری مساجد تعمیر ہوں گی اور اس مسجد کے تابع ہوں گی۔پس اسی طرح آخر الانبیاء کے معنے یہ ہیں کہ آئندہ جو بھی نبی یاولی ہو گا وہ آپ صلی علیکم کے تابع ہو گا اور آپ صلی یکم کی اتباع اور آپ صلی یہ کم ہی کے فیضان سے اسے یہ مقام حاصل ہو گا۔اس کے یہ معنے نہیں کہ آئندہ کسی قسم کا کوئی نبی نہیں ہو گا۔1 مدلول این حدیث نیست الاستخلاف مر تضی بر مدینه در غزوہ تبوک و تشبیه دادن این استخلاف باستخلاف موسی هارون را دروقت سفر خود بی طور و معنی بعدی اینجا فیری است چنانکه در آی فَمَن يَهْدِيهِ مِنْ بَعْدِ الله گفت اندن ن بعدية زمانی زیرا که ت بارون بعد حضرت موسی باقی نمانند تا ایشانر ابعدية زمانيه ثابت بود (قرة العينين في تفضيل الشيخين ص 206 مصنفہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی)