حدیقۃ الصالحین — Page 827
827 پوچھا: کیا تمہاری اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا ہاں ایک لڑکا اور دوسرے نے کہا میری ایک لڑکی ہے۔تو اس نے کہالڑ کے کا اس لڑکی سے نکاح کر دو اور اس سونے سے ان دونوں پر خرچ کرو اور صدقہ بھی دو۔عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَتِهِ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِى اشْتَرَى الْعَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةٌ فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى الْعَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ مِنِي، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ، وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، فَقَالَ الَّذِي شَرَى الْأَرْضَ إِنَّمَا بِعْتُكَ الْأَرْضَ وَمَا فِيهَا، قَالَ فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ : أَلَكُمَا وَلَدٌ ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لِي غُلَامٌ، وَقَالَ الْآخَرُ لِي جَارِيَةٌ، قَالَ أَنْكِحُوا الْغُلَامَ الْجَارِيَةَ، وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِكُمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا (مسلم کتاب الاقضیه باب استحباب اصلاح الحاكم بين الخصمين (3232) ہمام بن منبہ کہتے ہیں یہ رسول اللہ صلی نیلم کی وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرۃ نے ہمارے پاس بیان کیں۔انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا ایک شخص نے کسی سے اس کی کچھ زمین خریدی۔اس شخص نے جس نے زمین خریدی تھی۔اپنی زمین میں ایک گھڑا پا یا جس میں سونا تھا۔اس شخص نے جس نے زمین خریدی تھی کہا کہ مجھ سے اپنا سونا لے لو کیونکہ میں نے تم سے صرف زمین خریدی تھی اور میں نے تم سے سونا نہیں خریدا تھا۔وہ جس نے زمین بیچی تھی اس نے کہا میں نے تو تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں ہے بیچ دیا تھافرمایا وہ دونوں فیصلہ کے لئے ایک شخص کے پاس گئے جس شخص کے پاس وہ فیصلہ کے لئے گئے اس نے کہا کیا تم دونوں کے اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا کہ میر الڑ کا ہے اور دوسرے نے کہا میری لڑکی ہے۔اس نے کہا لڑکے کی شادی اس لڑکی سے کر دو اور اس سے تم دونوں اپنے آپ پر ( بھی ) خرچ کرو اور صدقہ بھی دو۔