حدیقۃ الصالحین — Page 826
826 کہتے تھے اور ابو سعدہ اس کی کنیت تھی۔اس نے کہا چونکہ تم نے ہمیں قسم دی ہے۔اس لئے اصل بات یہ ہے کہ سعد فوج کے ساتھ نہیں جایا کرتے تھے اور نہ برابر تقسیم کرتے تھے اور نہ فیصلہ میں انصاف کرتے تھے۔حضرت سعد نے کہا دیکھو اللہ کی قسم! میں تین دعائیں کرتا ہوں۔اے میرے اللہ ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور ریاء اور شہرت کی غرض سے کھڑا ہوا ہے تو اس کی عمر لمبی کر اور اس کی محتاجی کو بڑھا اور اسے مصیبتوں کا تختہ مشق بنا۔اس کے بعد جب کوئی اس کا حال پوچھتا تو وہ کہتا پیر فرتوت ہوں۔مصیبت زدہ ہوں۔حضرت سعد کی بد دعا مجھے لگ گئی۔عبد الملک کہتے تھے : میں نے اس کے بعد اسے دیکھا ہے کہ حالت یہ تھی کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کی بھویں اس کی دونوں آنکھوں پر آپڑی تھیں اور تعجب ہے کہ وہ راستوں میں لڑکیوں کو چھیٹر تا اور چشمک کرتا۔1012- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَقَارًا لَهُ، فَوَجَدَ الرَّجُلُ الَّذِى اشْتَرَى العَقَارَ فِي عَقَارِهِ جَرَّةٌ فِيهَا ذَهَبٌ، فَقَالَ لَهُ الَّذِي اشْتَرَى العَقَارَ: خُذْ ذَهَبَكَ مِنِي، إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ الْأَرْضَ، وَلَمْ أَبْتَعْ مِنْكَ الذَّهَبَ، وَقَالَ الَّذِى لَهُ الأَرْضُ: إِنَّمَا بِعْتُكَ الأَرْضَ وَمَا فِيهَا، فَتَحَاكَمَا إِلَى رَجُلٍ، فَقَالَ الَّذِي تَحَاكَمَا إِلَيْهِ الكُمَا وَلَدٌ ؟ قَالَ أَحَدُهُمَا: لي غُلامٌ وَقَالَ الآخَرُ: لِي جَارِيَّةٌ، قَالَ أَنكِحُوا الغُلاَمَ الجَارِيَةَ وَأَنْفِقُوا عَلَى أَنْفُسِهِمَا مِنْهُ وَتَصَدَّقَا (صحيح البخاري كتاب احادیث الانبياء باب حديث الغار (3472) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص نے کسی شخص سے اس کی زمین خریدی۔جس شخص نے وہ زمین لی تھی، اس نے اس کی زمین میں ایک گھڑ اپا یا جس میں سونا تھا۔تو جس شخص نے اس زمین کو لیا تھا اس نے کہا مجھ سے اپنا سونا لے لو کیونکہ ہم نے تو تم سے صرف زمین خریدی ہے اور تم سے سونا نہیں خریدا اور وہ شخص جس کی زمین تھی کہنے لگا: میں نے تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں تھا بچا ہے۔آخر وہ دونوں ایک شخص کے پاس تصفیہ کے لیے گئے تو اس شخص نے جس کے پاس وہ جھگڑا نپٹانے کے لئے گئے تھے،