حدیقۃ الصالحین — Page 808
808 مِنْ أُمَّةِ ذَلِكَ النَّبِي قَالَ اسْتَقْدَمْتَ وَاسْتَأْخَرَ وَلَكِن سَأَجْمَعُ بَيْنَكَ وَبَينَهُ فِي دَارِ الجلال (المواهب اللدنيه بالمنح المحمديه ، المقصد الرابع فى المعجزات و الخصائص ، الفصل الثاني فيما خصه الله ، خصائص امته الا ، باب من فضائل امته ، جلد 2 صفحه 708) - حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اللہ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی بنی اسرائیل کو اطلاع دو کہ جو شخص مجھے اس حال میں ملا کہ وہ احمد علیہ سلام سے جھگڑا کر تا تھا میں اسے آگ میں داخل کر دوں گا۔موسیٰ علیہ سلام نے کہا اے میرے رب ! احمد کون ہیں ؟ فرمایا میں نے کوئی مخلوق اس سے زیادہ معزز پیدا نہیں کی۔میں نے اس کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھ دیا ہوا ہے ، قبل اس کے کہ میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرتا۔یقیناً جنت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک کہ میں انہیں اور انکی امت کو اس میں داخل نہ کر دوں۔حضرت موسیٰ نے عرض کیا اس کی امت کون ہے ؟ فرمایا حمد کرنے والے ، وہ بلندی چڑھتے ہوئے اور نیچے اترتے ہوئے اور ہر حال میں حمد کریں گے ، دین کی خدمت کے لیے کمر بستہ ہوں گے اور انکے پہلو صاف ہوں گے۔دن کو روزے رکھیں گے اور راتوں کو عبادت کرنے والے ہوں گے۔میں ان سے تھوڑا عمل بھی قبول کروں گا اور ان کے صرف لا إله إلا اللہ کہنے والوں کو جنت میں داخل کروں گا۔حضرت موسیٰ نے عرض کیا مجھے اس امت کا نبی بنا دے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا انکا نبی ان میں سے ہو گا۔عرض کیا مجھے اس نبی کی امت میں سے بنادے۔فرمای اتو پہلے ہو چکا اور وہ بعد میں آئیں گے لیکن میں تمہیں اور انہیں دار الجلال میں اکٹھا کر دوں گا۔عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا مُوسَى يَمْشِي ذَاتَ يَوْمٍ فِي الطريق فَنَادَاهُ الْجَبَّارُ يَا مُوسَى فَالْتَفَتَ يَمِينًا وَهِمَالاً هُم نَادَاهُ القَانِيَةَ يَا مُوسى بن عمران فَالْتَفَتَ فَلَمْ يَرًا أَحَدًا فَارْتَعَدَتْ فَرَائِصُهُ ثُمَّ نُودِيَ الثَّالِقَةَ يَا مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ إِنِّي أَنَا اللَّهُ