حدیقۃ الصالحین — Page 807
807 حضرت انس نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا اللہ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی بنی اسرائیل کو اطلاع دو کہ جو شخص مجھے اس حال میں ملا کہ وہ احمد علیہ سلام سے جھگڑا کر تا تھا میں اسے آگ میں داخل کر دوں گا۔موسیٰ علیہ سلام نے کہا اے میرے رب ! احمد کون ہیں ؟ فرمایا میں نے کوئی مخلوق اس سے زیادہ معزز پیدا نہیں کی۔میں نے اس کا نام اپنے نام کے ساتھ عرش پر لکھ دیا ہوا ہے ، قبل اس کے کہ میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرتا۔یقیناً جنت میری تمام مخلوق پر حرام ہے جب تک کہ میں انہیں اور انکی امت کو اس میں داخل نہ کر دوں۔حضرت موسی نے عرض کیا اس کی امت کون ہے ؟ فرمایا حمد کرنے والے ، وہ بلندی چڑھتے ہوئے اور نیچے اترتے ہوئے اور ہر حال میں حمد کریں گے ، دین کی خدمت کے لیے کمر بستہ ہوں گے اور انکے پہلو صاف ہوں گے۔دن کو روزے رکھیں گے اور راتوں کو عبادت کرنے والے ہوں گے۔میں ان سے تھوڑا عمل بھی قبول کروں گا اور ان کے صرف لا إله إلا الله کہنے والوں کو جنت میں داخل کروں گا۔حضرت موسیٰ نے عرض کیا مجھے اس امت کا نبی بنا دے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا انکا نبی ان میں سے ہو گا۔عرض کیا مجھے اس نبی کی امت میں سے بنادے۔فرمایا تو پہلے ہو چکا اور وہ بعد میں آئیں گے لیکن میں تمہیں اور انہیں دار الجلال میں اکٹھا کر دوں گا۔في الحلية لأبي نعيم ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى نَبِيَّ بَنِي اسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ لَقِيَنِي وَهُوَ جَاحِدٌ بِأَحْمَد أَدْخَلْتُهُ النَّارَ قَالَ يَا رَبِّ وَمِن أَحْمَدُ ؟ قَالَ مَا خَلَقْتُ خَلْقاً أَكْرَمَ عَلَى مِنْهُ، كَتَبْتُ اسْمَةَ مَعَ اسْمِي فِي الْعَرْشِ قَبْلَ أَنْ أَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ إِنَّ الْجَنَّةَ مُحَرَّمَةٌ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِي حَتَّى يَدْخُلَهَا هُوَ وَأُمَّتِهِ قَالَ وَمَنْ أُمَّتُهُ ؟ قَالَ الْحَمَادُونَ يُحْمَدُونَ صَعُودًا وَهُبُوْطاً وعَلَى كُلِّ حَالٍ يَشُدُّونَ أَوْ سَاطِهُمْ وَيُطَهِّرُونَ أَطْرَافَهُم، صَائِمُونَ بِالنَّهَارِ رُهْبَانَ بِاللَّيْلِ، أَقْبَلُ مِنْهُم الْيَسِيرَ وَأَدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ بِشَهَادَة أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ قَالَ اجْعَلْنِي نَبِيَّ تِلْكَ الْأُمَّةِ قَالَ نَبِيُّهَا مِنْهَا قَالَ اجْعَلَنِي