حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 804 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 804

804 -993 فَقَالَ عَلى أَبي لَمْ أَرَ زَمَانًا خَيْرًا لِعَامِلٍ مِنْ زَمَانِكُمْ هَذَا، إِلَّا أَن يَكُونَ زَمَانًا مَعَ (مسند أحمد بن حنبل مسند انس بن مالک رضی الله عنه 13897) حضرت علی فرماتے ہیں کہ تمہارے اس زمانہ سے بہتر زمانہ اچھے اثرات کے لحاظ سے مجھے نظر نہیں آتا البتہ اگر کوئی نبی آئے تو اس کے زمانہ کی برکات کی اور بات ہے۔994۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِيمَا أَعْلَمُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِدُ لَهَا دِينَهَا (سنن أبي داود كتاب الملاحم باب ما يذكر في قرن المائة 4291) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایسا مجد د بھیجے گا جو اس امت کے دین کی تجدید کرے گا۔یعنی امت میں جو بگاڑ پیدا ہو گیا ہو گا اس کی اصلاح کرے گا اور دین کی رغبت اور اس کے لئے قربانی کے جذبہ کو بڑھا دے گا۔995۔عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ نَبِي اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْن الخطاب (سنن الترمذي ، كتاب المناقب، باب فی مناقب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ 3686) حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الی یکم نے فرمایا اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر نبی ہوتے۔(یعنی حضرت عمر میں ملکات نبوت اور فیض رسالت موجود ہیں۔بعض نے ” بغدادی “ کے معنے ”میری بجائے “ کئے ہیں)