حدیقۃ الصالحین — Page 800
800 ย گے۔صحابہ نے عرض کیا ایسی صورت میں آپ صلی القیام کا کیا حکم ہے۔آپ صلی یا تم نے فرمایا جس کی پہلے بیعت کرو اس کی بیعت کے عہد کو نبھاؤ اور اسے اس کا حق دو۔خود خلفاء اللہ تعالیٰ کے حضور ذمہ دار ہیں وہ ان سے ان کے فرائض کے متعلق پوچھے گا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا ہے۔989 - عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ۔۔۔۔۔۔۔فقال حُذَيْفَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النُّبُوَةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَن تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يرفعها، ثم تكون مُلكًا عاضا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ أَن يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا هَاءَ أَن يَرْفَعَهَا، تم تَكُونُ مُلَكًا جَبْرِيَّةٌ، فَتَكُونُ مَا هَاءَ اللهُ أَن تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَن يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ نُبُوَةٍ ثُمَّ سَكَتَ (مسند أحمد بن حنبل، اول مسند الكوفيين ، حديث النعمان بن بشير عن النبي 18596) رض الله حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یکم نے فرمایا تم میں نبوت قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر وہ اس کو اٹھالے گا اور خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔پھر اللہ تعالیٰ جب چاہے گا اس نعمت کو بھی اٹھا لے گا۔پھر اس کی تقدیر کے مطابق ایذا رساں بادشاہت قائم ہو گی (جس سے لوگ دل گرفتہ ہوں گے اور تنگی محسوس کریں گے ) جب یہ دور ختم ہو گا تو اس کی دوسری تقدیر کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر جابر بادشاہت قائم ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے گا اور اس ظلم و ستم کے دور کو ختم کر دے گا۔اس کے بعد پھر خلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔یہ فرما کر آپ صلی یہ کی خاموش ہو گئے۔