حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 798 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 798

798 إِلَى تَبُوكَ وَخَلَّفَ عَلِيًّا۔فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ خَرَجْتَ وَخَلَّفْتَنِي؟ فَقَالَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هارون من موسى إلا أنه لا نبئ بَعْدِى ؟ (طبقات الكبرى لابن سعد، طبقات البدريين من المهاجرين ، من بنى هاشم ، على بن ابى طالب رضی الله عنه ، باب ذکر قول رسول الله الا الله العلی بن ابی طالب اما ترضى ان تكون منى۔۔جلد 3 صفحه 17 ) حضرت سعد بن مالک نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی ا لم تبوک کے لیے نکلے اور حضرت علی کو اپنے بعد جانشین بنایا۔حضرت علی نے آپ سے کہا یا رسول اللہ ! آپ ( غزوہ کے لیے) نکلے ہیں اور مجھے پیچھے چھوڑ دیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ میرے ہاں تیری منزلت وہی ہے جو موسیٰ کے ہاں ہارون کی تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔988 - سَمِعْتُ ابا حازم قال قَاعَدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ خَمْسَ سِنِينَ، فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ تَسُوسُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ، كُلَّمَا هَلَكَ نَبِيُّ خَلَفَهُ نَبِيُّ، وَإِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِى، وَسَيَكُونُ خُلَفَاءُ فَيَكْثُرُونَ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ فُوا بِبَيْعَةِ الأَوَّلِ فَالأَوَّلِ، أَعْطُوهُمْ حَقَهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ سَائِلُهُمْ عَمَّا اسْتَرْعَاهُمْ (صحيح البخاري كتاب احادیث الانبياء باب ما ذكر عن بنی اسرائیل 3455) ابو حازم نے کہا کہ میں حضرت ابو ہریرہ کے ساتھ پانچ سال بیٹھتا رہا اور میں نے ان سے سناوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت بیان کرتے تھے۔آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کی نگرانی نبی کیا کرتے تھے۔جب کوئی نبی فوت ہو جاتا تو ایک اور نبی اس کا جانشین ہوتا اور دیکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں مگر خلفاء ضرور ہوں گے اور بہت ہوں گے۔صحابہ نے پوچھا پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا جو پہلے ہو اس کی بیعت پہلے پوری کرو۔پھر اس کے بعد جو ہو ، اُن کا حق انہیں دو۔کیونکہ اللہ بھی ان سے ضرور پوچھے گا اس ( رعیت) کے بارے میں جس کی نگرانی اس نے ان کے سپر د کی۔