حدیقۃ الصالحین — Page 792
792 عن أبي هريرة قالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُ الْأَنْبِيَاءِ تَقَل قصر أخين بنيانه ترك مِنهُ موضع لبنة قطاف النظار يتعلمون من حُسنٍ بنيانِهِ إِلَّا مَوْضِعَ تِلْكَ اللَّبِنَةِ فَكُنْتُ أَنا سَدَدْتُ مَوْضِعَ اللَّبِنَةِ خُتِمَ فِى الْبُنْيَانُ وَخُتِمَ فِي الرُّسُلُ۔وَفِي رِوَايَةٍ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ (مشكاة المصابيح كتاب الفضائل و الشمائل باب فضائل سید المرسلين ، الفصل الاول 5745) حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللی نیلم نے فرمایا میری اور سابقہ نبیوں کی مثال اس محل کی طرح ہے جس کی تعمیر بڑے خوبصورت انداز میں ہوئی لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی گئی۔لوگ اس محل کو گھوم پھر کر دیکھتے اور اس کی خوبصورتی پر حیران ہوتے لیکن دل میں کہتے یہ اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑ دی گئی پس میں ہوں جس نے اس اینٹ کی جگہ کو پر کیا۔میرے ذریعہ یہ عمارت تکمیل میں اعلیٰ اور حسن میں بے مثال ہو گئی ہے اسی لئے مجھے رسولوں کا خاتم بنایا گیا ہے۔ایک اور روایت ہے کہ حضور نے فرمایا وہ اینٹ میں ہوں اور نبیوں کا خاتم ہوں۔983 - إِنِّي عِندَ اللهِ فِي أَمِ الْكِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ، وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِينَتِهِ (مسند أحمد بن حنبل ، مسند الشاميين ، حديث العرباض بن سارية عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم 17295) آنحضرت صلی الم نے ایک بار فرمایا میں اللہ تعالیٰ کے حضور اس وقت سے ام الکتاب میں خاتم النبیین لکھا گیا ہوں جبکہ ابھی آدم کو گارے اور پانی سے ٹھوس شکل دی جارہی تھی (یعنی اس کی ساخت کی تیاریاں ہو رہی تھیں)۔إِنِّي عِنْدَ اللهِ فِي أَمِ الْكِتَابِ لَا تَمُ النَّبِيِّينَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِي طِيْنَتِهِ (کنز العمال، حرف الفاء كتاب الفضائل، من قسم الأفعال ، الباب الأول : في فضائل نبينا محمد صلی اللہ علیہ وسلم وأسمائہ وصفاتہ البشرية، الفصل الثالث في فضائل متفرقة تنبيء عن التحدث بالنعم 31960)