حدیقۃ الصالحین — Page 751
751 حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مکہ کی طرف جاتے ہوئے میں ابن صیاد کے ساتھ تھا(اس شخص کے متعلق اس کی بعض عجیب و غریب حرکات کی وجہ سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ دجال ہے ) ابن صیاد نے شکوہ کے رنگ میں مجھ سے کہا۔میں لوگوں سے بڑا دکھی ہوں۔وہ سمجھتے ہیں میں دجال ہوں لیکن کیا تو نے رسول اللہ صل الم سے یہ نہیں سنا کہ دجال کی اولاد نہیں ہو گی اور میری اولا د ہے۔آپ صلی الم نے فرمایا تھا کہ الله سل دجال کا فر ہو گا اور میں مسلمان ہوں۔آپ صلی للی یکم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا اور میں مدینہ سے آرہا ہوں اور مکہ کا ارادہ رکھتا ہوں۔پھر اس نے مجھ سے کہا البتہ کچھ نسبت تو میری دجال سے ضرور ہے مجھے معلوم ہے کہ وہ کب اور کہاں پیدا ہو گا؟ کہاں سے اٹھے گا، اس کے ماں باپ کو بھی میں جانتا ہوں۔ابوسعید کہتے ہیں کہ میں نے کہا خدا تجھے سمجھے! کیا تجھے اچھا لگتا ہے کہ تو ہی دجال ہو۔اس پر ابن صیاد نے کہا اگر مجھے دجال بننے کی پیشکش کی جائے تو میں اسے رد نہیں کروں گا اور نہ دجال کہلا نانا پسند کروں گا۔949۔عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ بَخشِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ أَنَّهَا قَالَتْ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّوْمِ مُحَمَرًا وَجْهُهُ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ اليَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ وَعَقَدَ سُفْيَانُ تِسْعِينَ أَوْ مِائَةً قِيلَ: أَتَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ قَالَ نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الخَبَتُ (صحيح البخاري، كتاب الفتن، باب قول النبي ويل للعرب من شر قد اقترب 7059) حضرت زینب بنت جحش نے بیان کیا کہ نبی صلی الی یکم نیند سے بیدار ہوئے۔آپ کا چہرہ سرخ تھا۔آپ یہ فرمار ہے تھے۔اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، عرب کی بربادی ہے ایک شر سے جو بالکل قریب آن پہنچا ہے۔یاجوج اور ماجوج کی دیوار میں آج اتنا وزن ہو گیا ہے اور سفیان نے انگلیوں سے نوے 90 یا سو 100 کا عد د بتلایا۔آپ سے پوچھا گیا کیا ہمیں ہلاک کیا جائے گا جب کہ ہم میں اچھے لوگ ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا ہاں، جب گندگی بڑھ جائے گی۔