حدیقۃ الصالحین — Page 750
750 حَيْثُ هُوَ، وَأَعْرِفُ أَيَّاهُ وَأَمَّهُ، قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيَسُرُكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟ قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَى مَا كَرِهْتُ (مسلم کتاب الفتن باب ذكر ابن صياد 5196) حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ ابن صائد نے مجھے کہا۔اور مجھے اس سے شرم محسوس ہوئی اور میں دوسرے لوگوں کو تو معذور سمجھتا ہوں۔لیکن اے محمد کے اصحاب !میرے اور تمہارے درمیان کیا ( جھگڑا) ہے ؟ کیا اللہ کے نبی نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ ( دجال) یہودی ہے ؟ اور میں تو مسلمان ہو چکا ہوں۔آپ نے فرمایا تھا کہ اس کی تو اولا دنہ ہو گی اور میری اولاد ہے اور آپ نے فرمایا تھا کہ اللہ نے اس پر مکہ ( میں داخلہ ) حرام کیا ہے اور میں نے تو حج کیا ہوا ہے۔وہ کہتے ہیں وہ باتیں کرتا رہا حتی کہ قریب تھا کہ اس کی بات مجھ میں اثر کر جائے۔وہ کہتے ہیں پھر اس نے انہیں کہا سنو! اللہ کی قسم مجھے علم ہے کہ اب وہ (رجال) کہاں ہے اور میں اس کے باپ اور اس کی ماں کو جانتا ہوں۔وہ کہتے ہیں اس سے کہا گیا کیا تمہیں یہ بات خوش کرتی ہے کہ تم ہی وہ شخص ہو ؟ وہ کہتے ہیں اس پر اس نے کہا اگر میرے سامنے پیش کیا جائے تو میں ناپسند نہ کروں۔وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي قَالَ صَحِبْتُ ابْن صياد إِلَى مَكَّة فَقَالَ مَا لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ؟ يَزْعُمُونَ أَبي الدَّجَالُ أَلَسْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ لَا يُولد له۔وَقَدْ وُلِدَ لِي أَلَيْسَ قَدْ قَالَ هُوَ كَافِرُ وَأَنا مُسلم أَو لَيْسَ قَدْ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مكة ؛ وقد أقبلتُ مِنَ الْمَدِينَةِ وَأَنا أُرِيدُ مَكةَ ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ قَالَ فَلَبَسَنِي قَالَ قُلْتُ لَهُ تَنَّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ۔قَالَ وَقِيلَ لَهُ أَيسرك أنك ذاكَ الرَّجُلُ : قَالَ فَقَالَ لَوْ عُرِضَ عَلَى مَا كَرِهْتُ (مشكاة المصابيح ، كتاب الفِتَن بَاب قصّة ابن الصياد ، الفصل الأول 5498)