حدیقۃ الصالحین — Page 749
749 اور (3) بھاگنے کے بعد پھر حملہ کرتے ہیں اور (4) لوگوں میں بہتر ہیں مسکین یتیم اور کمزور کے لئے اور۔پانچویں جو بڑی عمدہ اور خوبصورت خوبی ہے وہ سب سے زیادہ بادشاہوں کے ظلم کو روکنے والے ہیں۔- 947ـ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ هَاجَتْ رِيحٌ حَمْرَاءُ بِالْكُوفَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ لَهُ هِجَيرَى إِلَّا يَا عَبْدَ اللَّهِ بْن مَسْعُودٍ جَاءَتِ السَّاعَةُ، قَالَ فَقَعَدَ وَكَانَ مُتَكنَّا فَقَالَ إِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ، حَتَّى لَا يُقْسَمَ مِيرَاتٌ، وَلَا يُفْرَحَ بِغَنِيمَةٍ ، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَنَاهَا نَحْوَ الشَّامِ فَقَالَ عدو يجمعون لأهْلِ الْإِسْلَامِ ، وَيَجْمَعُ لَهُمْ أَهْلُ الْإِسْلَامِ، قُلْتُ الرُّومَ تَعْنِي؟ قَالَ نَعَمْ (مسلم کتاب الفتن باب اقبال الروم فى كثرة القتل عند خروج الدجال (5146) یسیر بن جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ کوفہ میں سُرخ آندھی آئی تو ایک شخص آیا اس کا تکیہ کلام تھا کہ ” اے عبد اللہ بن مسعودؓ ! قیامت آگئی“۔راوی کہتے ہیں وہ (حضرت عبد اللہ ) سہارا لئے ہوئے تھے بیٹھ گئے اور کہا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ میراث تقسیم نہ ہوگی اور محض مال غنیمت پر خوشی نہ ہوگی پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔اور اپنے ہاتھ کو شام کی طرف موڑا اور کہا کہ اہل اسلام کے مقابل پر دشمن (وہاں) اکٹھے ہوں گے اور مسلمان ان سے لڑنے کے لئے اکٹھے ہوں گے۔میں نے کہا آپ کی مراد رومی ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں۔948- عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ: وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ: هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ، مَا لِي وَلَكُمْ ؟ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ يَهُودِى وَقَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ وَلَا يُولَدُ لَهُ وَقَدْ وُلِدَ لِي، وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ وَقَدْ حَجَجْتُ، قَالَ فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَن يَأْخُذَ فِي قَوْلُهُ، قَالَ فَقَالَ لَهُ أَمَا، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ