حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 744 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 744

744 ولی کدورت کے باوجود صلح کی سطحی کوششیں کی جائیں گی۔میں نے عرض کیا پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی ٹیم نے فرمایا گمراہی کی طرف بلانے والے لوگ کھڑے ہوں گے ، ایسے حالات میں اگر زمین میں اللہ کا کوئی خلیفہ دیکھو تو تم اس کی متابعت و مصاحبت اختیار کرو۔اگر چہ اس وجہ سے تمہارا جسم لہولہان کر دیا جائے اور تمہارا مال لوٹ لیا جائے اور اگر تمہیں ایسے خلیفتہ اللہ کا قرب میسر نہ آئے تو زمین کے کسی کونے میں چلے جاؤ اگر چہ تم اکیلے درخت کے تنے کو پکڑے مر جاؤ۔حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔اس نازک صورت حال کے اور کیا نتائج بر آمد ہوں گے ؟ آپ صلی للی کرم نے فرمایا پھر دجال کا غلبہ ہو گا۔اس پر میں نے پوچھا وہ کیا شعبدے دکھائے گا؟ آپ صلی علیکم نے فرمایا وہ نہریں جاری کرے گا، آگ سے کام لے گا۔جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوا ( یعنی اس نے دنیا کو ترجیح دی ) اسے ثواب سے محروم کر دیا جائے گا اور گناہوں کی سزا پائے گا اور جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوا ( یعنی اس کی پیدا کر دہ مشکلات کا اس نے سامنا کیا) اس کو اللہ تعالیٰ کے حضور سے ثواب ملے گا اور اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔حذیفہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اس کے بعد پھر کیا ہو گا ؟ تو آپ صلی یہی ہم نے فرما یا گھوڑی بچہ بنے گی تو اس کا بچہ سواری کے قابل نہیں ہو گا کہ قیامت آجائے گی۔عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ؟ قَالَ قُلُوبُ لَا تَعُودُ عَلَى مَا كَانَتْ (مسند احمد بن حنبل ، تتمه مسند الانصار ، حديث حذيفة بن اليمان عن النبي ال 2381) حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ” هُدْنَةٌ عَلَى دَخَنٍ“ کے معنی کیا ہیں؟ آپ صلی الم نے فرمایا ایسے دل جو پہلی بھائی چارہ کی حالت پر واپس نہیں آئیں گے یعنی ان میں دشمنی اور کھوٹ کی آگ سلگتی رہے گی۔