حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 738 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 738

738 مِنَ النَّاسِ وَالْقَحَةَ مِنَ الْغَلَمِ لَتَكْفِي الْفَخِذَ مِنَ النَّاسِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ بَعَثَ اللَّهُ رِيحًا طَيْبَةٌ، فَتَأْخُذُهُمْ تَحْتَ آبَاطِهِمْ، فَتَقْبِضُ رُوحَ كُلِّ مُؤْمِنٍ وَكُلِّ مُسْلِمٍ، وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ، يَتَهَا رَجُونَ فِيهَا تَبَارُجَ الْحُمُرِ، فَعَلَيْهِمْ تَقُومُ السَّاعَةُ (مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعة باب ذكر الدجال و صفته و ما معه 5214) حضرت نواس بن سمعان بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح رسول اللہ صلی نیلم نے دجال کا ذکر فرمایا اور اس کے ذکر میں آواز کبھی دھیمی ہوئی اور کبھی بلند یہانتک کہ ہم سمجھے کہ وہ (دجال قریب ہی) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔جب ہم شام کو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہم میں (گھبراہٹ کے آثار ) پہچان لئے اور فرمایا تمہیں کیا ہوا ہے ؟ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! صبح آپ نے دجال کا ذکر کیا تھا کبھی آپ کی آواز دھیمی تھی کبھی بلند۔ہم سمجھے وہ کھجوروں کے جھنڈ میں ہے۔اس پر آپ نے فرمایا دجال کے علاوہ ( اور امور کا) تمہارے بارے میں مجھے زیادہ خوف ہے۔اگر وہ میری موجودگی میں نکلے تو میں تمہاری طرف سے اس سے دلیل کے ذریعہ مقابلہ کرنے والا ہوں اور اگر وہ نکلے اور میں تم میں نہ ہوں تو ہر شخص کو خود دلیل کے ذریعہ اس کا مقابلہ کرنا ہو گا اور اللہ میرے بعد ہر مسلمان کا خلیفہ ہے۔وہ ( دجال) جو ان ہے ، بہت گھنے گھنگھریالے بالوں والا ہے۔اس کی آنکھ پھولی ہوئی ہے گویا کہ میں اسے عبد العزیٰ بن قطن سے تشبیہ دوں گا۔تم میں سے جو کوئی اسے پائے تو اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راہ سے نکلنے والا ہے۔دائیں جانب بھی فساد برپا کرے گا اور بائیں جانب بھی۔پس اے اللہ کے بندو! تم ثابت قدم رہنا۔ہم نے عرض کیا یارسول اللہ !وہ زمین میں کتنا عرصہ رہے گا ؟ آپ نے فرمایا چالیس دن ، کوئی دن ایک سال کے برابر ہو گا اور کوئی دن ایک ماہ کے بر ابر اور کوئی دن ایک ہفتہ کے برابر ، اس کے باقی سارے دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے۔ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ! وہ دن جو ایک سال کی طرح ہو گا کیا اس میں ایک دن کی نمازیں ہمارے لئے کافی ہوں گی۔آپ نے فرمایا نہیں اس کے لئے اندازہ کر لینا۔ہم نے عرض کیا یارسول اللہ از مین میں اس کی تیز رفتاری کیسی ہو گی ؟ آپ نے فرمایا بارش کی طرح جس کے پیچھے ہوا چل رہی ہو۔پھر وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں پکارے گا تو