حدیقۃ الصالحین — Page 690
690 عبد الرحمن بن ابی بکر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی لی لی نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں کہ بڑے بڑے گناہ کیا ہیں ؟ ہم نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا اللہ کا شریک ٹھہر انا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ اس وقت تک تکیہ لگا کر بیٹھے تھے اٹھ بیٹھے اور فرمایا سنو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔سنو جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا۔آپ ان کلمات کو اتنی بار دہراتے رہے کہ ہم نے سمجھا کہ آپ خاموش نہیں ہوں گے۔875ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ (مسلم (مکتبہ بیروت)، مقدمة الكتاب ، باب النهي عن الحديث بكل ما سبع، روایت نمبر (7) حضرت ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا کہ انسان کے جھوٹے ہونے کے لئے یہی علامت کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات لوگوں میں بیان کرتا پھرے۔زبان کی حفاظت، غیبت اور چغلخوری 876ـ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ امْسِكُ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَلْيَسَعُكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ (ترمذی کتاب الزهد باب ما جاء فى حفظ اللسان (2406) حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں کہا یا رسول اللہ ! نجات کیسے حاصل ہو ؟ آپ صلی للی یکم نے فرمایا اپنی زبان روک کر رکھو۔تیر اگھر تیرے لئے کافی ہو ( یعنی حرص سے بچو)۔اگر کوئی غلطی ہو جائے تو نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر معافی طلب کرو۔