حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 682 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 682

682 کے سامنے آگ ہے، جسے وہ جلا رہا ہے۔وہ دونوں مجھے لے کر درخت پر چڑھ گئے اور مجھے ایسے گھر میں لے گئے کہ میں نے اس سے اچھا ( اور اس سے بہتر گھر کبھی نہیں دیکھا۔اس میں بوڑھے ، جوان، عور تیں اور بچے ہیں۔پھر انہوں نے مجھے وہاں سے نکالا اور درخت پر چڑھالے گئے اور مجھے ایک ایسے گھر کے اندر لے گئے جو پہلے گھر سے بھی زیادہ خوبصورت اور بہتر تھا۔اس میں بوڑھے اور جوان ہیں۔میں نے کہا تم نے مجھے آج رات خوب گھمایا ہے جو میں نے دیکھا ہے اس کے متعلق مجھے بتلاؤ تو سہی۔ان دونوں نے کہا اچھاوہ جو تم نے دیکھا تھا کہ اس کا گلپھڑا چیرا جارہا ہے ، وہ بڑا جھوٹا شخص ہے جو جھوٹی بات بیان کرتا۔لوگ اسے سن کر ادھر اُدھر لے جاتے، یہاں تک کہ چاروں طرف وہ بات پہنچ جاتی۔اس لئے اس کے ساتھ بھی قیامت کے دن یہی معاملہ ہو تارہے گاجو تم نے دیکھا اور جسے تم نے دیکھا کہ اس کا سر پھوڑا جارہا ہے ، وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن سکھایا تھا تو وہ رات کو تو اس سے غافل سو تارہا اور دن کو اس پر عمل نہ کیا۔اس کے ساتھ بھی قیامت کے دن تک یہی ہو تا رہے گا اور وہ لوگ جو تم نے گڑھے میں دیکھے تو وہ زانی ہیں اور جس کو تم نے نہر میں دیکھا، اس سے مراد سود خور ہیں اور وہ بوڑھا شخص جو تم نے درخت کی جڑ میں دیکھا تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں اور بچے جو اُن کے ارد گر د تھے تو وہ لوگوں کے بچے ہیں اور وہ جو آگ جلا رہا ہے تو وہ مالک فرشتہ ہے جو دوزخ کا داروغہ ہے اور وہ پہلا گھر جس کے اندر تم گئے تھے وہ عام مومنوں کا گھر ہے اور یہ جو دوسر اگھر ہے تو وہ شہید وں کا گھر ہے اور میں جبریل ہوں اور یہ میکائیل ہے۔اپنا سر اٹھاؤ۔میں نے اپنا سر اُٹھایا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر ابر کی طرح کوئی چیز ہے۔ان دونوں نے کہا وہ تمہارا مقام ہے۔میں نے کہا مجھے چھوڑو کہ میں اپنے مقام میں جاؤں تو ان دونوں نے کہا ابھی تمہاری عمر باقی ہے جو تم نے پوری نہیں کی۔اگر تم پوری کر چکے ہوتے تو تم اپنے مقام میں پہنچ جاتے۔