حدیقۃ الصالحین — Page 681
681 میں نے تو آج رات دو شخص دیکھے کہ وہ میرے پاس آئے ہیں۔انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ارض مقدسہ کی طرف لے گئے تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص بیٹھا اور ایک شخص کھڑا ہے۔اس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا ہے۔ہمارے بعض ساتھیوں نے موسیٰ ( بن اسماعیل) سے یوں نقل کیالو ہے کا آنکڑا ہے، جو وہ اس کے گلپھڑے میں گھسیڑ تا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کی گدی تک پہنچ جاتا ہے۔پھر دوسرے گلپھڑے میں بھی اسی طرح کرتا ہے اور پہلا گلپھڑا جڑ جاتا ہے اور وہ بار بار اسی طرح کرتا ہے۔میں نے اس سے پوچھا: یہ کیا؟ ان دونوں نے کہا آگے چلیں۔ہم چل پڑے۔یہاں تک کہ ہم ایک ایسے شخص کے پاس آئے جو اپنی گدی کے بل لیٹا ہو اتھا اور ایک آدمی اس کے سر پر سل بٹہ یا کہا پتھر لئے کھڑا ہے اور اس سے اس کا سر پھوڑ رہا ہے۔جب اسے مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے۔پھر وہ اس کو لینے جاتا ہے۔ابھی اس کی طرف نہیں لوٹنا کہ اس کا سر جڑ جاتا ہے اور پھر ویسے ہی ہو جاتا ہے جیسے پہلے تھا۔پھر وہ اس کی طرف دوبارہ لپکتا ہے اور اسے مارتا ہے۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے ؟ ان دونوں نے کہا آگے چلیں۔تو ہم ایک گڑھے کی طرف گئے جو تنور کی طرح تھا۔اوپر سے تنگ تھا اور نیچے سے کشادہ۔اس کے اندر آگ سلگ رہی تھی۔جب آگ کی لپٹ کنارے تک آتی تو وہ لوگ بھی اوپر اٹھ آتے ، یہاں تک کہ وہ نکلنے کے قریب ہوتے۔جب دھیمی ہوتی تو وہ بھی اس میں لوٹ جاتے اور اس میں کئی عورتیں اور مرد ننگے تھے۔میں نے پوچھا: یہ کون ؟ دونوں نے کہا آگے چلیں۔ہم چل پڑے۔یہاں تک کہ ہم ایک خون کی ندی پر آئے، اس میں ایک آدمی کھڑا تھا اور وہ ندی کے درمیان میں تھا۔اور ایک (اور) آدمی تھا جس کے سامنے پتھر تھے۔یزید بن ہارون) اور وہب بن جریر نے جریر بن حازم سے یوں روایت کی: کیا دیکھتے ہیں کہ ندی کے کنارے پر ایک شخص ہے۔(جس کے سامنے پتھر ہیں۔اتنے میں وہ شخص جو ندی کے اندر تھا، آگے کو بڑھا۔جب اس نے نکلنے کا ارادہ کیا تو دوسرے آدمی نے اس کے منہ پر پتھر مارا اور اسے وہیں لوٹا دیا، جہاں تھا۔پھر ایسا ہی کرتا ہے جب کبھی وہ نکلنے کے لئے آتا تو اس کے منہ پر پتھر مارتا اور وہ جہاں ہو تا وہاں لوٹ جاتا۔میں نے کہا یہ کیا ؟ دونوں نے کہا آگے چلیں۔ہم چل پڑے۔یہاں تک کہ ایک سر سبز باغ میں آئے، جس میں ایک بہت ہی بڑا درخت تھا۔اس کی جڑ کے پاس ایک بوڑھا اور کچھ بچے تھے اور دیکھا کہ ایک شخص درخت کے قریب ہے۔اس