حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 679 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 679

679 کرنے والیاں اور وہ شخص جس کے پاس تم آئے جو نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیئے جاتے تھے تو وہ سود خور ہے اور وہ بد صورت شخص جو آگ کے پاس تھا اس کو سلگا رہا تھا اور اس کے گر دا گر د دوڑ رہا تھا تو وہ مالک فرشتہ ہے جو جہنم کا داروغہ ہے اور وہ شخص جو باغیچہ میں تھاتو وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور وہ بچے جو ان کے گر داگر و تھے وہ تمہارے بچے ہیں جو فطرت پر مر گئے۔حضرت سمرہ کہتے تھے یہ سن کر بعض مسلمانوں نے کہا۔یار سول اللہ ! اور مشرکوں کے بچے (جو مر جاتے ہیں)؟ تو رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا مشرکوں کے بچے بھی تھے اور وہ لوگ جن کا آدھا دھڑ اچھا تھا اور آدھا بد صورت تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملے جلے کام کئے کچھ اچھے بھی اور کچھ برے بھی اللہ نے ان سے در گزر کر دیا۔عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ۔۔۔۔۔۔رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدِى، فَأَخْرَجَانِي إِلَى الأَرْضِ المقدَّسَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ، بِيَدِهِ كَذُوبٌ مِنْ حَدِيدٍ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا عَنْ مُوسَى : إِنَّهُ يُدْخِلُ ذَلِكَ الكَلُوبَ فِي شِدْقِهِ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ بِشِدْقِهِ الآخَرِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَيَلْتَهِمْ شِدّقُهُ هَذَا، فَيَعُودُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ، قُلْتُ مَا هَذَا؟ قَالَا: انْطَلِقُ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعْ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِفِهْرٍ — أَوْ صَخْرَةٍ - فَيَشْدَحُ بِهِ رَأْسَهُ، فَإِذَا ضَرَبَهُ تَدَهُدَةَ الحَجَرُ، فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ لِيَأْخُذَهُ، فَلَا يَرْجِعُ إِلَى هَذَا حَتَّى يَلْتَيَّمَ رَأْسُهُ وَعَادَ رَأْسُهُ كَمَا هُوَ، فَعَادَ إِلَيْهِ، فَضَرَبَهُ، قُلْتُ مَنْ هَذَا؟ قَالا: انْطَلِقُ فَانْطَلَقْنَا إِلَى ثَقْبِ مِثْلِ التَّنُّورِ ، أَعْلاهُ ضَيْقُ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يَتَوَقَدُ تَحْتَهُ نَارًا، فَإِذَا اقْتَرَبَ ارْتَفَعُوا حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجُوا ، فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا، وَفِيهَا رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ، فَقُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ قَالاَ انْطَلِقُ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَهِ فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى وَسُطِ النَّهَرٍ - قَالَ يَزِيدُ، وَوَهُبُ بْنُ جَرِيرٍ: عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَعَلَى شَطِ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةً ، فَأَقْبَلَ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ رَعَى