حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 54 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 54

54 وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ بَيْنَمَا هُوَ يَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْفَلَهُ مِنْ حُنَيْنٍ فَعَلِقَتِ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ فَوَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْطُونِي رِدَائِي لَوْ كَانَ لِي عَدَدُ هَذِهِ الْعِضَاةِ نَعَمُ لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ثُمَّ لَا تجدوني بخيلًا وَلَا كذوباً وَلَا جَبَانًا۔رَوَاهُ البُخَارِي (مشكاة المصابيح كتاب الفضائل و الشمائل ، باب فی اخلاقه و شمائلہ صلی اللہ علیہ وسلم ، الفصل الاول 5807) حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین سے واپسی کے دوران ایک موقع پر کچھ اجڈ دیہاتی رسول اللہ صلی نیلم کے پیچھے پڑ گئے وہ بڑے اصرار سے سوال کر رہے تھے۔جب آپ صلی اللہ لکم انہیں دینے لگے تو انہوں نے اتنا رش کیا کہ آپ می بینم کو مجبوراً ایک درخت کا سہارا لینا پڑا۔حتی کہ آپ صلی نیلم کی چادر چھین لی لئی۔آپ صلی ہم نے فرمایا میری چادر مجھے واپس دے دو۔پھر کیکروں کے بہت بڑے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی علی یم نے فرمایا اگر اس وسیع جنگل کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوں تو میں ان کو تقسیم کرنے میں الله خوشی محسوس کروں گا اور تم مجھے کبھی بھی بخل سے کام لینے والا، بڑہانکنے والا یا بز دلی دکھانے والا نہیں پاؤ گے۔40 - عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَوْقَدَ نَارًا، فَجَعَلَ الْجَنادِبُ وَالْفَرَاشُ يَقَعْنَ فِيهَا ، وَهُوَ يَذْبُهُنَّ عَنْهَا، وَأَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ، وَأَنْتُمْ تَفَلَّتُونَ مِنْ يَدِى (مسلم کتاب الفضائل ، باب شفقته صلى اللہ علیہ وسلم على امته و مبالغته فى تحذيرهم مما يضر هم 4222) حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا میری مثال اور تمہاری مثال اس شخص کی مثال کی طرح ہے جس نے آگ جلائی اور ٹڈیاں اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ انہیں اس سے ہٹاتا ہے اور میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ کر آگ سے بچاتا ہوں اور تم میرے ہاتھ سے نکل نکل جاتے ہو۔