حدیقۃ الصالحین — Page 665
665 جاتا اور وہ دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روکتی اور لوہے کی کنگھیاں چلا کر اس کا گوشت ہڈیوں یا پٹھوں سے نوچتے اور یہ بات اس کو اس کے دین سے نہ روکتی۔اللہ کی قسم! اس سلسلہ ( کی کامیابی) کو ( پروردگار ) ضرور مکمل کرے گا یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا۔کسی سے نہیں ڈرے گا، سوا اللہ کے، یا اپنی بکریوں کی بابت بھڑیئے سے۔مگر بات یہ ہے کہ تم (کامیابی ) جلدی چاہتے ہو۔848ـ قَالَ عَبْدُ اللهِ كَافِي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ، ضَرَبَهُ قَوْمُهُ فَأَدْمَوْهُ، وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب حديث الغار 3477) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) نے بیان کیا کہ گویا میں نبی صلی للی کمک و آب بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبیوں میں سے ایک نبی کا حال آپ سنارہے ہیں جس کو اس کی قوم نے مار مار کر لہولہان کر دیا تھا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھ رہے تھے اور کہتے جاتے تھے : اے اللہ ! میری قوم کو بخش دے کیونکہ وہ نہیں جانتے۔849ـ عَنْ صُهَيْبٍ ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلّهُ خَيْرٌ، وَلَيْسَ ذالك لأحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِن، إن أصابَتْهُ مَرَاءُ هَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ، صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ (مسلم کتاب الزهد والرقائق باب المومن امره کله خیر 5304) حضرت صہیب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا معاملہ سراسر خیر ہے اور یہ مومن کے علاوہ کسی کے لئے نہیں۔اگر اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لئے مخیر ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے یہ (بھی) اس کے لئے خیر ہے۔