حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 664 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 664

664 مصائب و مشکلات اور صبر و ثبات 846ـ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِي، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ وَ فِي حَدِيثِ أَبِي أَسَامَةَ غَيْرَكَ قَالَ قُلْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ (مسلم کتاب الایمان باب جامع اوصاف الاسلام 47) حضرت سفیان بن عبد الله الثقفی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے اسلام کے بارہ میں کوئی ایسا ارشاد فرمائیں کہ مجھے آپ کے بعد کسی سے اس بارہ میں پوچھنے کی ضرورت نہ ہو۔ابو اسامہ کی روایت میں آپ سے (” بعد “ کے بجائے ) علاوہ کے الفاظ ہیں۔آپ نے فرمایا کہو ” میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر قائم رہو۔847- عَنْ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِ، قَالَ شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُتَوَسِلٌ بُرْدَةٌ لَهُ فِي ظِلِ الكَعْبَةِ، قُلْنَا لَهُ أَلاَ تَسْتَنْصِرُ لَنَا ، أَلا تَدْعُو اللَّهَ لَنَا ؟ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِيمَنْ قَبْلَكُمْ يُحْفَرُ لَهُ فِي الْأَرْضِ، فَيُجْعَلُ فِيهِ، فَيُجَاءُ بِالْمِنْشَارِ فَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ فَيُشَقُ بِاثْنَتَيْنِ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَيُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الحَدِيدِ مَا دُونَ لَحْمِهِ مِنْ عَظْمٍ أَوْ عَصَبٍ، وَمَا يَصُدُّهُ ذَلِكَ عَنْ دِينِهِ، وَاللهِ لَيُتِمَّنَ هَذَا الأَمْرَ، حَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ مِنْ صَنْعَاءَ إِلَى حَضْرَمَوْتَ، لَا يَخَافُ إِلَّا اللَّهَ ، أَوِ الذِئْبَ عَلَى غَنَمِهِ، وَلَكِنَّكُمْ تَسْتَعْجِلُونَ (بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوة فى الاسلام 3612) حضرت خباب بن ارث نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا اور آپ اس وقت کعبہ کے سایہ میں اپنی چادر پر ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ہم نے آپ سے کہا کیا آپ ہمارے لئے نصرت کی دعا نہیں کریں گے ؟ کیا آپ اللہ سے ہمارے لئے دعا نہیں کریں گے ؟ آپ نے فرمایا تم میں سے جو پہلے لوگ تھے ، ان میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا جس کے لئے زمین میں گڑھا کھودا جاتا۔پھر وہ اس میں گاڑ دیا جاتا اور آرا لا کر اس کے سر پر رکھا