حدیقۃ الصالحین — Page 663
663 آپ صلی الیہ کم کو دیکھا تو آپ مای لیلی کام میں وہ مجھے نظر آئیں سوائے دو علامات کے ان میں ایک یہ کہ کیا اس نبی کا حلم اس کے غصہ پر غالب ہے دوسرے یہ کہ جتنا زیادہ ان سے تلخی اور جہالت سے پیش آیا جائے اتنا ہی زیادہ وہ حلم اور بردباری سے پیش آئیں گے (سو موقع ملنے پر) میں نے ان دونوں باتوں کی آزمائش کی ہے۔اے عمر! میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اللہ کو اپنا رب اور اسلام کو اپنا دین اور محمدصلی لینک کو اپنا نبی ماننے پر خوش ہوں اور آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں ایک مالدار شخص ہوں میرا آدھا مال امت محمد صلی الیکم کے لئے صدقہ ہے۔اس پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا بعض امت محمدیہ کے لئے کہو کیونکہ ساری امت کا تو کوئی شمار ہی نہیں ان) کے لئے یہ مال کیسے پورا آسکتا ہے۔میں نے کہا اچھا بعض کی ضرورتوں کے لئے خرچ ہو۔اس کے بعد زیدہ رسول اللہ صلی الیکم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلى العلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔اس طرح زید نے آپ صلی کم کی بیعت کی اور کئی جنگوں میں آپ کے ساتھ شریک رہے۔یہاں تک کہ غزوئہ تبوک سے واپس آتے وقت راستہ میں ہی زید نے وفات پائی۔اللہ تعالیٰ زید پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔آمین۔