حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 662 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 662

662 رسول باغ کی ہی ہوں گی۔میں نے کہا ٹھیک ہے چنانچہ آپ نے مجھ سے سودا طے کر لیا اور میں نے اپنی ہمیائی کھول کر آپ کو اسی 80 مثقال (بطور پیشگی قیمت) دے دیا کہ فلاں وقت اتنی کھجوریں آپ مجھے دے دیں۔آپ نے وہ سونا اس شخص کو دے دیا (جو مددمانگنے کے لئے آیا تھا) اور فرمایا یہ برابر ان مصیبت زدہ لوگوں میں تقسیم کر دو اور ان کی مدد کرو۔زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ ابھی مدت مقررہ طے شدہ مدت میں دو تین دن باقی تھے کہ میں آپ کے پاس آیا اور آپ کا گریبان پکڑ لیا چادر کھینچی اور بڑے غصہ کی حالت بنا کر کہا۔اے محمد ! کیا میر ا حق ادا نہیں کرو گے خدا کی قسم ! تم بنو عبد المطلب اپنی اس عادت کو اچھی طرح جانتے ہو کہ قرض ادا کرنے میں بڑے برے ہو اور تمہاری ٹال مٹول کی اس عادت کو میں بھی جانتا ہوں ( اور اس کا مجھے تجربہ ہے ) اس وقت میں عمر کی طرف (جو پاس ہی تھے) دیکھ رہا تھا کہ (غصہ کے مارے) ان کی آنکھیں یوں گھوم رہی ہیں جس طرح گھومنے والی کشتی یا پھر کی۔آپ نے بڑی تیز غصہ بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا اے اللہ کے دشمن! اللہ کے رسول صلی علیم سے ایسا کہتا ہے جو میں سن رہا ہوں اور اس طرح گستاخی سے پیش آتا ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں۔اس خدا کی قسم جس نے ان کو حق دیکر بھیجا اگر مجھے ان کا ڈر نہ ہوتا تو میں اپنی تلوار سے تیرا سر اڑا دیتا اور رسول اللہ صلی اللی نیم بڑے اطمینان اور تسلی کے ساتھ عمر کی طرف دیکھ رہے تھے اور تبسم فرمارہے تھے اور پھر آپ صلی علی یکم نے فرمایا اے عمر اس غصہ کی بجائے میں اور یہ دونوں اس بات کے زیادہ ضرورت مند ہیں کہ تو مجھے حسن ادا کے لئے کہے اور اسے حسن تقاضا کے لئے۔اگر چہ ابھی ادائیگی کا وقت نہیں آیا اور کچھ دن باقی ہیں لیکن شاید یہ جلدی ادا ئیگی چاہتا ہے اس لئے جاؤ اسے ( ذخیرہ میں سے ) اس کا حق دلا دو اور میں صاع زیادہ کھجوریں دے دینا۔جب ادائیگی ہوئی تو میں نے عمرؓ سے کہا یہ زیادہ کس لئے ؟ عمر نے جواب دیا۔حضور علی یم نے مجھے فرمایا تھا کہ جو سختی میں نے کی ہے اس کے عوض میں ہیں صاع زیادہ ادا کروں۔میں نے عمرؓ سے کہا آپ جانتے ہیں میں کون ہوں ؟ عمرؓ نے کہا نہیں، آپ کون ہیں ؟ میں نے کہا میں زید بن سعنہ ہوں عمرؓ نے پوچھا (وہ) حبر یعنی یہود کا عالم ؟ میں نے جواب دیا ہاں، یہود کا عالم۔اس پر عمر نے کہا اتنے بڑے عالم ہو کر گستاخی کا یہ طریق تم نے کیوں اختیار کیا؟ میں نے جواب دیا جتنی بھی علامات نبوت ( میں نے اپنی کتابوں میں پڑھیں) تھیں جب میں نے