حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 661 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 661

661 قُلْتُ أَوْ عَلَى بَعْضِهِمْ ، فَرَجَعَ زَيْلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ زَيْلٌ أَشْهَدُ أن لا إله إلا الله، وَأَعْبَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَآمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ وَبَايَعَهُ وَشَهِدَ مَعَهُ مَقاهِد هير، ثم توفي زيد في غزوة تبوك مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْرٍ وَرَحمَ اللَّهُ زَيْدًا (المستدرك على الصحيحين للحاكم ، كتاب معرفة الصحابه ، باب ذكر اسلام زيد بن سعنة مولى رسول الله 6547) حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے زید بن سعنہ کو ہدایت دینی چاہی تو زید بن سعنہ نے کہا ( وہ تمام علامات نبوت جو تورات میں درج تھیں ) آنحضرت علی ایم کے چہرہ مبارک کی طرف جیسا میں نے دیکھا تھا تو آپ صلی اللہ یکم میں تمام علامات نبوت مجھے نظر آئیں سوائے دو باتوں کے جن کا مجھے پتہ نہیں تھا کہ آپ میں ہیں یا نہیں۔ان میں سے ایک یہ ہے کہ اس نبی کا حلم اس کے غصہ پر غالب ہو گا دوسری بات یہ ہے کہ جتنا ہی زیادہ اس کو غصہ دلایا جائے اور اس کی گستاخی کی جائے اتنا ہی زیادہ وہ حلم اور بردباری دکھائے گا اور میں اس کی جستجو میں رہا کہ کبھی موقع ملے تو ان علامتوں کو بھی آزماؤں زید بن سعنہ (یہودی) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی للی کم گھر سے باہر آئے آپ صلی الی یکم کے ساتھ علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے اس دوران ایک سوار آیا جو بدوی یعنی دیہاتی لگتا تھا اس نے کہا یار سول اللہ ! بنو فلاں کے گاؤں بصری کے لوگ مسلمان ہو گئے ہیں اور میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر وہ مسلمان ہو جائیں تو ان کو وافر رزق ملے گا اب وہ قحط سے دو چار ہیں کیونکہ بارشیں نہیں ہو ئیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ حرص اور لالچ میں آکر اسلام سے نکل نہ جائیں جس طرح کہ وہ فراخی رزق کی ترغیب دلانے پر مسلمان ہوئے تھے۔اگر آپ مہربانی فرما دیں اور مناسب سمجھیں تو ان کی طرف کچھ بھیج کر ان کی مدد اور دلداری فرماویں آپ صلی یکم نے اس کی بات سن کر علی کی طرف دیکھا تو انہوں نے عرض کیا اس وقت تو ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو مدد کے طور پر بھیجی جاسکے۔زید بن سعنہ کہتے ہیں کہ میں (قریب ہی تھا) آپ کے پاس آیا اور کہا اے محمد صلی الی یکم کیا بنو فلاں کے باغ کی کھجوریں ایک طے شدہ مقدار اور طے شدہ مدت کی شرط پر ( یعنی بطور بیع سلم ) بیچ سکتے ہیں۔آپ نے فرمایا اے یہودی طے شدہ مقدار اور مدت کی شرط پر کھجوریں تو بیچ سکتا ہوں لیکن یہ شرط نہیں مان سکتا کہ یہ کھجوریں بنو فلاں کے