حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 53 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 53

53 ہیں۔مجھے اور گھبر اہٹ ہوئی کہ کل کی غلطی کی وجہ سے شاید میری شامت آئی ہے۔بہر حال میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی عوام نے بڑی شفقت سے فرمایا کل تم نے میر اپاؤں کچل دیا تھا اور اس پر میں نے تمہیں ایک کو ڑا ہلکا سا مارا تھا اس کا مجھے افسوس ہے۔یہ اسی بکریاں تمہیں دے رہا ہوں یہ لو ( اور جو تکلیف تمہیں مجھ سے پہنچی ہے ، اسے دل سے نکال دو)۔39- عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَنَّ مُحَمَّد بْن جُبَيْرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ ، أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ النَّاسُ، مُقْبِلًا مِنْ حُنَيْنٍ، عَلِقَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْرَابُ يَسْأَلُونَهُ حَتَّى اضْطَرُّوهُ إِلَى سَمُرَةٍ، فَخَطِفَتْ رِدَاءَهُ، فَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْطُونِي رِدَائِي، فَلَوْ كَانَ عَدَدُ هَذِهِ العِضَادِ نَعَمَّا لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ، ثُمَّ لَا تَجِدُونِي بَخِيلًا، وَلَا كَذُوبًا ، وَلَا جَبَانًا (بخاری کتاب فرض الخمس باب ما كان النبى صلى اللہ علیہ وسلم یعطی المولفة قلوبهم 3148) حضرت جبیر بن مطعم بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین سے واپسی کے دوران ایک موقع پر کچھ اجڈ دیہاتی آپ صلی یہ کلم کے پیچھے پڑ گئے وہ بڑے اصرار سے سوال کر رہے تھے۔جب آپ صلی علی یکم انہیں دینے لگے تو انہوں نے اتنا رش کیا کہ آپ صلی علی ایم کو مجبوراً ایک درخت کا سہارا لینا پڑا۔حتی کہ آپ صلی علیکم کی چادر چھین لی گئی۔آپ صلی الم نے فرمایا میری چادر مجھے واپس دے دو۔پھر کیکروں کے بہت بڑے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی للی یم نے فرمایا اگر اس وسیع جنگل کے برابر بھی میرے پاس اونٹ ہوں تو میں ان کو تقسیم کرنے میں خوشی محسوس کروں گا اور تم مجھے کبھی بھی بخل سے کام لینے والا، بڑہانکنے والا یا بز دلی دکھانے والا نہیں پاؤ گے۔