حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 644 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 644

644 اچھی خاطر تواضع کر و۔وہ بولی : ہمارے پاس کچھ نہیں مگر اتنا ہی کھانا جو میرے بچوں کیلئے مشکل سے کافی ہو۔اس نے کہا اپنے اس کھانے کو تیار کر لو اور چراغ بھی جلاؤ اور اپنے بچوں کو جب وہ شام کا کھاناما نگیں سلا دینا۔چنانچہ اس نے اپنا کھانا تیار کیا اور چہ ان کو جلایا اور اپنے بچوں کو سلا دیا۔پھر اس کے بعد وہ اٹھی جیسے چراغ درست کرتی ہے۔اس نے اس کو بجھا دیا۔وہ دونوں اس مہمان پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویاوہ بھی کھا رہے ہیں مگر ان دونوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔جب صبح ہوئی تو دور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔آپ نے فرمایا آج رات اللہ ہنس پڑا، یا فرمایا تمہارے دونوں کے کام سے بہت خوش ہوا، اور اللہ نے یہ وحی نازل کی وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر :10): انصار اپنے آپ پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں اگر چہ خود انہیں محتاجی ہی ہو اور جو اپنے نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں وہی ہیں جو بامراد ہونے والے ہیں۔821- عن أبي مُوسَى، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَشْعَرِنِينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْهِ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبِ وَاحِدٍ، اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ (مسلم کتاب فضائل الصحابة باب من فضائل الاشعريين رضی اللہ عنہ 4542) حضرت ابو موسی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی نیلم نے فرمایا جب دوران جنگ اشعری لوگوں کا کھانا ختم ہو جاتا ہے یا مدینہ میں ان کے اہل و عیال کا کھانا کم پڑ جاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہو تا ہے وہ ایک کپڑے میں جمع کر لیتے ہیں پھر اسے آپس میں ایک برتن کے ذریعہ برابر برابر تقسیم کر لیتے ہیں لہذ اوہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔