حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 643 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 643

643 سے کہا کیا تیرے پاس کچھ ہے ؟ اس نے کہا سوائے میرے بچوں کی خوراک کے اور کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ انہیں کسی چیز سے بہلا دو اور جب ہمارا مہمان اندر آئے تو چراغ بجھا دینا اور اس پر ظاہر کرو کہ ہم کھانا کھارہے ہیں۔جب وہ کھانے لگے تو چراغ کی طرف جانا اور اسے بجھا دینا۔راوی کہتے ہیں وہ سب بیٹھے اور مہمان نے کھایا جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی ال یکم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا رات جو تم نے اپنے مہمان کے ساتھ کیا اللہ اس سے خوش ہوا۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ فَقُلْنَ: مَا مَعَنَا إِلَّا المَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيفُ هَذَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : أَنَا فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ مَا عِنْدَنَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي، فَقَالَ هَيْنِي طَعَامَكِ، وَأَصْبِحِي سِرَاجَكِ، وَنَوْمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا عَشَاءَ، فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا، وَأَصْبَحَتْ سِرَاجَهَا، وَنَوْمَتْ صِبْيَاءَهَا، ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا فَأَطْفَأَتْهُ، فَجَعَلاَ يُرِيَانِهِ أَنَهُمَا يَأْكُلَانِ، فَبَاتًا طَاوِيَيْنِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ضَحِكَ اللَّهُ اللَّيْلَةَ، أَوْ عجِبَ، مِنْ فَعَالِكُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُغَ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ المُفْلِحُونَ (بخاری کتاب المناقب باب قول الله و یو ثرون على انفسهم 3798) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔آپ نے اپنی ازواج کی طرف (کسی کو) بھیجا۔انہوں نے جواب دیا: ہمارے پاس سوائے پانی کے اور کچھ نہیں۔رسول اللہ صلی علیکم نے فرمایا اس مہمان کو کون اپنے ساتھ رکھے گا؟ یا فرمایا اسے کون مہمان ٹھہرائے گا؟ انصار میں سے ایک شخص بولا میں۔چنانچہ وہ اسے اپنے ساتھ لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور کہا رسول اللہ صلی علیم کے مہمان کی نہایت