حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 642 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 642

642 تک کہ آپ نے اپنی قربانی کی اور اپنے حجام کو بلایا۔جب صحابہ نے یہ دیکھا تو تیزی سے اٹھے اپنی اپنی قربانیاں ذبح کہیں اور احرام کھولنے کے لئے ایک دوسرے کے بال مونڈنے لگے جلدی اور غم کی وجہ سے ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے کہ یوں لگتا تھا کہ ایک دوسرے کو مار ہی ڈالیں گے۔6 820 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ إِلى تَهُودٌ ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضٍ نِسَائِهِ، فَقَالَتْ وَالَّذى بَعَقَكَ بِالْحَقِ، مَا عِنْدِي إِلَّا مَاءٌ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى، فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ: لَا ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِ، مَا عِنْدِى إِلَّا مَاءُ، فَقَالَ مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللهُ ؟ فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ أَنَا ، يَا رَسُولَ اللهِ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٍ ؟ قَالَتْ لَا إِلَّا قُوتُ صِبْيَانِي، قَالَ فَعَيْلِيهِمْ بِشَيْءٍ ، فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِي السَيَرَاجَ، وَأَرِيهِ أَنَا تَأْكُلُ ، فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ ، فَقُومِي إِلَى السَرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ، قَالَ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ، فَلَهَا أَصْبَحَ غَدًا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ (مسلم کتاب الاشربة باب اكرام الضيف و فضل ایثاره 3815) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی علیکم کے پاس آیا اس نے کہا میں فاقہ زدہ ہوں۔آپ نے اپنی ایک زوجہ مطہرہ کی طرف پیغام بھیجا، انہوں نے کہا اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے۔پھر آپ نے (ایک اور زوجہ مطہرہ) کی طرف بھیجا۔انہوں نے بھی اسی طرح کہا یہاں تک کہ ان سب نے اس طرح کہا کہ نہیں! اس کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں۔اس پر آپ صلی ا ہم نے فرمایا جو اس شخص کو رات مہمان بنائے گا اللہ اس پر رحم کرے گا۔انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا میں یار سول اللہ ! وہ اسے اپنے گھر لے گیا اور اپنی بیوی