حدیقۃ الصالحین — Page 51
51 موسیٰ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب بھی رسول اللہ صلی علیم سے اسلام پر کوئی چیز مانگی گئی آپ نے وہ عطا فرمائی۔وہ کہتے ہیں ایک شخص آپ کے پاس آیا۔آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان (کی تمام) بکریاں عطا فرمائیں۔وہ اپنی قوم کی طرف لوٹا اور کہا اے میری قوم! اسلام لے آؤ۔محمد صلی میں تم تو اتنا دیتے ہیں کہ فاقہ کا ڈر نہیں رہتا۔عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَّا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ أَى قَوْمٍ أَسْلِمُوا، فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ فَقَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب ما سئل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شيئا قط فقال لا 4262) الله حضرت انس سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی الیہ کم سے دو پہاڑوں کے درمیان جتنی (بھی) بکریاں تھیں مانگ لیں۔آپ نے اسے وہ عطا فرما دیں۔پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہا اے میری قوم ! اسلام لے آؤ۔خدا کی قسم ! محمد صلی علی کرم تو اتنا دیتے ہیں کہ غربت کا ڈر نہیں رہتا۔حضرت انس کہتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی آدمی صرف دنیا کے لئے اسلام قبول کرتا تھا مگر جو نہی اسلام قبول کرتا تو اسلام اسے دنیا ومافیھا سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا۔عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُسْأَلُ شَيْئًا عَلَى الْإِسْلَامِ، إِلَّا أَعْطَاهُ ، قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَأَمَرَ لَهُ بِشَاءٍ كَثِيرٍ بَيْنَ جَبَلَيْنِ مِنْ شَاءِ الصَّدَقَةِ۔قَالَ فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً مَا يَخْشَى الْفَاقَةَ (مسند احمد ، مسند المكثرين من الصحابة ، مسند انس بن مالک رضی اللہ تعالی 12074)