حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 614 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 614

614 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایا اخراجات میں میانہ روی اور اعتدال نصف معیشت ہے اور لوگوں سے محبت سے پیش آنا نصف عقل ہے اور سوال کو بہتر رنگ میں پیش کر نا نصف 782 - عن محمد بن سيرين، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَرَاهُ رَفَعَهُ، قَالَ أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَأَبْغِضُ بَغِيضَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ حَبِيبَكَ يَوْمًا مَا (ترمذی کتاب البر والصله باب ما جاء فى الاقتصاد فى الحب والبغض 1997) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضور صلی للی یکم نے فرمایا اپنے دوست سے اعتدال کے اندر رہ کر محبت کرو کیونکہ عین ممکن ہے کہ کل کلاں وہی شخص تیرا دشمن بن جائے اور اسی طرح اپنے دشمن سے بھی حد کے اندر رہ کر دشمنی رکھ کیونکہ ممکن ہے کہ وہی کل تیر ا دوست بن جائے (اور پھر کی ہوئی زیادتیوں پر تو شر مندہ ہوتا پھرے)۔783 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَ مِنْ أَخْلَاقِ الْإِيمَانِ: مَنْ إِذَا غَضِبَ لَمْ يُدْخِلْهُ غَضَبُهُ فِي بَاطِلٍ وَمَنْ إِذَا رَضِيَ لَمْ يُخْرِجْهُ رِضَاهُ مِن حَق وَمَنْ إِذَا قَدَرَ لَمْ يَتَعَاطَ مَا لَيْسَ لَهُ (المعجم الصغير للطبرانى ، باب الالف ، من اسمه احمد جلد 1صفحه61) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا تین اخلاق ایمان کا تقاضا ہیں۔اول یہ کہ جب کسی مومن کو غصہ آئے تو غصہ اسے باطل اور گناہ میں مبتلا نہیں کر سکتا اور جب وہ خوش ہو تو اس کی خوشی اسے حق سے باہر نکلنے نہیں دیتی وہ خوشی میں بھی اعتدال کو نہیں چھوڑتا ) اور جب اسے قدرت اور اقتدار ملتا ہے تو (اس وقت بھی) وہ اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتا (یعنی جو اس کا نہیں اس کو لینے کے لئے کوشش نہیں کرتا)۔