حدیقۃ الصالحین — Page 612
612 اس نعمت کی وجہ سے اپنے رب سے ڈرتا ہے، رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حق کو پہچانتا ہے۔یہ تو سب سے اعلیٰ درجہ کا انسان ہے۔دوسر اوہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا لیکن مال نہیں دیا اور سچی نیت سے کہتا ہے کہ اگر مجھے مال بھی ملتا تو میں فلاں سخی کی طرح اپنے مال کو خرچ کرتا۔ایسے شخص کو اس کی نیت کا ضرور ثواب ملے گا اور پہلے آدمی کے برابر اس کا درجہ ہو گا۔تیسر اوہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مال تو دیا ہے لیکن علم نہیں دیا۔چنانچہ وہ اپنے مال کو سوچے سمجھے بغیر بے جا خرچ کرتا ہے اور اس خرچ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا۔صلہ رحمی اور رشتہ داروں حسن سلوک نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے حق کو نہیں پہچانتا۔یہ انسان بڑا بد قسمت اور بد کردار ہے۔چوتھے وہ انسان جس کو اللہ تعالیٰ نے نہ مال دیا ہے اور نہ علم، لیکن آرزور کھتا ہے کہ اگر میرے پاس مال ہو تو میں بھی اس بد کردار شخص کی طرح اسے خرچ کروں اور عیش و عشرت میں زندگی بسر کروں۔پس ایسے بد نہاد شخص کو بھی اس کی نیت کا بدلہ ملے گا اور اس کا انجام اس تیسرے شخص کی طرح بلکہ اس سے بھی بد تر ہو گا۔779ـ أَنَّ عَطَاءَ بْن يَسَارٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْن أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَا سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ المِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالشَّمْرَتَانِ، وَلَا اللَّقْمَةُ وَلَا اللَّقَمَتَانِ، إِنَّمَا المِسْكِينُ الَّذِي يَتَعَفَّفُ (بخاری کتاب التفسير باب لا يسالون الناس الحافا (البقرة (273) 4539) عطاء بن یسار اور عبد الرحمن بن ابی عمرہ انصاری دونوں نے کہا کہ ہم نے حضرت ابوہریرہ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ نبی صلی الم نے فرما یا مسکین وہ نہیں جس کو ایک کھجور یا دو کھجوریں لوٹا دیں اور نہ وہ جس کو ایک لقمہ یا دو لقمے لوٹا دیں بلکہ مسکین تو وہ شخص ہے جو سوال کرنے سے بچتار ہے۔