حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 602 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 602

602 765 - عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أُعْطِيَ عَطَاءً فَوَجَدَ فَلْيَجْزِ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدُ فَلْيُثْنِ بِهِ ، فَمَنْ أَثْنَى بِهِ فَقَدْ شَكَرَهُ، وَمَنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَه (ابو داؤد کتاب الادب باب فى شكر المعروف 4813) حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اگر کسی شخص کو کوئی تحفہ دیا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کا بدلہ دے۔اگر وہ بدلہ دینے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ تعریف کے رنگ میں اس کا ذکر کرے اگر اس نے ایسا کیا تو گویا اس نے شکر کا حق ادا کر دیا۔اگر اس نے بات کو چھپایا تعریف کا ایک کلمہ تک نہ کہا تو گویاوہ ناشکری کا مر تکب ہوا۔و قار عمل، کسب حلال اور سوال سے بچنا 766 ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الغَلَمَ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ ؟ فَقَالَ نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مكَّة (بخاری کتاب الاجارة باب رعى الغنم على قراريط 2262) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الی ہم نے فرمایا اللہ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے لم بکریاں نہ چرائی ہوں۔آپ کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ !) کیا آپ نے بھی (چرائی ہیں؟) آپ نے فرمایا ہاں، میں بھی چند قیر اطوں کے بدلے مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔