حدیقۃ الصالحین — Page 595
595 زادٍ، فَلْيَعُدْ بِهِ عَلَى مَنْ لَا زَادَ لَهُ قَالَ فَذَكَرَ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ مَا ذَكَرَ حَتَّى رَأَيْنَا أَنَّهُ لَا حق لأحَدٍ مِنَّا فِي فَضْلٍ (مسلم کتاب اللقطة باب استحباب المواساة بفضول المال 3244) حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے وہ کہتے ہیں ایک سفر میں ہم نبی صلی المی ریم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص اپنی کم اونٹنی پر سوار آیا۔راوی کہتے ہیں اس نے دائیں بائیں دیکھنا شروع کیا۔رسول اللہ صلی الی نکم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد سواری ہے وہ اسے دے دے جس کے پاس سواری نہیں ہے اور جس کے پاس زائد کھانا ہے ، وہ اسے دے دے جس کے پاس کھانا نہیں ہے۔راوی کہتے ہیں آپ نے اموال کی بہت سی اقسام کا ذکر فرمایا یہانتک کہ ہم نے خیال کیا کہ ہم میں سے کسی کا زائد مال پر کوئی حق نہیں ہے۔756 - عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَقِيَ مِنْهَا ؟ قَالَتْ مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا قَالَ بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا (ترمذى كتاب صفة القيامة والرقائق باب ما جاء فى صفة اواني الحوض (2470 حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کروائی (اور اس کا گوشت غرباء میں تقسیم کیا اور کچھ گھر میں بھی کھانے کے لئے رکھ لیا) اس پر نبی صلی علیم نے دریافت فرمایا کس قدر گوشت بچ گیا حضرت عائشہ نے جواب دیا دستی بچی ہے۔(یہ سن کر) حضور علی ایم نے فرمایا سارا بچ گیا ہے سوائے اس دستی کے ( یعنی جس قدر تقسیم کیا گیا وہ ثواب ملنے کی وجہ سے بچ گیا ہے اور جو بچا کر خود کھانے کے لئے رکھا ہے چونکہ اس کا ثواب نہیں ملے گا۔اس لئے حقیقت وہ نہیں بچا )۔