حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 565 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 565

565 717 - عن أبي الدَّرْدَاءِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ابْغُولي ضُعَفَاءَكُمْ، قا لما تُرْزَقُونَ وَتُنصَرُونَ بِضُعَفَائِكُمْ (ترمذی کتاب الجهاد باب ما جاء في الاستفتاح بصعالیک المسلمین (1702) حضرت ابو الدردار بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ ہم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔کمزوروں میں مجھے تلاش کرو۔یعنی میں ان کے ساتھ ہوں اور ان کی مدد کر کے تم میری رضا حاصل کر سکتے ہو۔یہ حقیقت ہے کہ کمزوروں اور غریبوں کی وجہ سے ہی تم خدا کی مد دپاتے ہو اور اس کے حضور سے رزق کے مستحق بنتے ہو۔718ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ امْرَأَةٌ سَوْدَاءَ كَانَتْ تَقُمُ الْمَسْجِدَ - أَوْ شَابًا فَفَقَدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَنْهَا – أَوْ عَنْهُ - فَقَالُوا مَاتَ، قَالَ أَفَلَا كُنْتُمْ أَذَنْتُمُونِي قَالَ فَكَأَنَّهُمْ صَغَرُوا أَمْرَهَا - أَوْ أَمْرَهُ - فَقَالَ دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مَمْلُوةٌ ظُلْمَةً عَلَى أَهْلِهَا، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوْرُهَا لَهُمْ بِصَلَاتِي عَلَيْهِمْ (مسلم کتاب الجنائز باب الصلاة على القبر (1577) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ رنگ کی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی یا ایک نوجوان۔رسول اللہ صلی نیم نے اسے موجود نہ پاکر اس کے بارہ میں پوچھا۔انہوں نے کہا اس کی تو وفات ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی۔راوی کہتے ہیں گویا کہ انہوں نے اس کے معاملہ کو معمولی سمجھا۔آپ نے فرمایا مجھے اس کی قبر بتاؤ۔انہوں نے قبر بتائی۔آپ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی۔پھر فرمایا یہ قبریں ان میں رہنے والوں پر تاریکی سے بھری ہوتی ہیں اور یقینا اللہ عزوجل ان کے لئے اسے میری دعا سے ، جو میں ان کے لیے کرتا ہوں، انہیں روشن کرتا ہے۔