حدیقۃ الصالحین — Page 564
564 حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ انکے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی یم نے فرمایا اس شخص کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں جو چھوٹے پر رحم نہیں کرتا اور بڑے کا شرف نہیں پہچانا یعنی بڑے کی عزت نہیں کرتا۔715 - عَنْ أَبِي هُرَيْرَةً، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رُبِّ أَشْعَتَ مَدْفُوعِ بِالْأَبْوَابِ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرِّهُ (مسلم کتاب الجنة وصفة نعيمها باب الناريد خلها الجبارون و الجنة يدخلها الضعفاء5080) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ کتنے ہی پر اگندہ بالوں والے، جنہیں دروازوں سے دھکے دئے جاتے ہیں اگر وہ اللہ پر قسم کھائیں تو وہ ضرور اسے پوری کرتا ہے۔716ـ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْن وَهُبِ الخُزَاعِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعْفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لأبره، ألا أخيرُكُمْ بأَهْلِ النَّارِ : كُل عُتُلٍ، جَوَاطٍ مُسْتَكْير (بخاری کتاب تفسیر القرآن ، باب عتل بعد ذلک زنیم (القلم (14) 4918) رض حضرت حارثہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی للی کم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔کیا جنت میں بسنے والوں کے متعلق میں تمہیں کچھ بتاؤں ؟ ہر وہ کمزور جس کو لوگ کمزور سمجھتے ہیں مگر جب وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے نام کی قسم کھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کر دیتا ہے اور جیسا وہ چاہتا ہے ایسا ہی کر دیتا ہے۔پھر فرمایا کیا میں تم کو دوزخ میں رہنے والوں کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر سرکش خود پسند، شعله مزاج، متکبر دوزخ کا ایندھن بنے گا۔