حدیقۃ الصالحین — Page 555
555 اٹھے تو انہوں نے دودھ پیا۔اے میرے اللہ ! اگر میں نے یہ عمل تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو اس پتھر کی وجہ سے جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دور کر۔اس پر وہ پتھر کچھ سرک گیا مگر وہ غار سے نکل نہیں سکتے تھے۔نبی صلی یم نے فرمایا دوسرے نے کہا اے میرے اللہ ! میری ایک چا کی بیٹی تھی جو مجھے بہت ہی پیاری تھی۔میں نے اسے پھسلانا چاہا، وہ مجھ سے بچتی رہی یہاں تک کہ قحط سالی میں مبتلا ہوئی اور وہ میرے پاس آئی۔میں نے اسے ایک سو بیس اشرفیاں دیں، اس شرط پر کہ وہ مجھے خلوت میں ملے۔اس نے ایسا ہی کیا، یہاں تک کہ جب وہ پوری طرح میرے قابو میں آگئی تو وہ کہنے لگی: میں تیرے لئے یہ جائز نہیں قرار دیتی کہ تو اس مہر کو بغیر اس کے جائز حق کے توڑے۔اس پر میں نے اس سے مباشرت کرنا گناہ سمجھا اور اس سے الگ ہو گیا جبکہ وہ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب تھی اور وہ اشرفیاں بھی میں نے اُسی کے پاس رہنے دیں جو میں نے اُسے دی تھیں۔اے میرے اللہ ! اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لئے کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دُور کر دے۔اس پر وہ پتھر کچھ اور سرک گیا مگر پھر بھی وہ غار سے باہر نکلنے کے قابل نہ تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیسرے نے کہا اے میرے اللہ ! میں نے کچھ مز دور لگائے اور میں نے اُن کی مزدوری اُن کو دے دی، سوائے ایک شخص کے جو اپنی مزدوری چھوڑ کر چلا گیا۔میں نے اُس کی مزدوری کو کام پر لگا دیا، یہاں تک کہ اس ذریعہ سے بہت مال ہو گیا۔پھر وہ ایک عرصہ کے بعد میرے پاس آیا اور اُس نے کہا اے اللہ کے بندے ! میری مزدوری مجھے دے۔میں نے اُسے کہا یہ سب اُونٹ، گائیاں، بکریاں اور غلام لونڈی جو تو دیکھ رہا ہے تیری مز دوری ہی ہے۔اس نے کہا اے اللہ کے بندے ! مجھ سے ہنسی نہ کر۔میں نے کہا میں تم سے ہنسی نہیں کر رہا۔تب اس نے ساری چیزیں لے لیں اور انہیں ہانک کر لے گیا اور اس نے اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑا۔اے میرے اللہ ! اگر میں نے تیری رضا کے لئے یہ کام کیا تھا تو جس مصیبت میں ہم ہیں، وہ ہم سے دور کر۔اس پر وہ پتھر (ان سے اور بھی ) ہٹ گیا، یہاں تک کہ وہ نکل کر چلے گئے۔